ایرانی طالبات کی زہرخورانی کا معاملہ وزراء تعلیم اور صحت کی برطرفی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں گذشتہ مہینوں کے دوران اسکول کی طالبات کو زہر دینے کے واقعات میں مسلسل اضافے کےبعد ایرانی خواتین کے حقوق کے درجنوں کارکنوں نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کیا، جس میں اسکول کی طالبات کو دانستہ اور سلسلہ وار زہر دینے کی مذمت کی گئی۔ بیان میں وزیر تعلیم اور وزیر صحت کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق کارکنوں نے آزاد ایرانی ڈاکٹروں اور ماہرین، متعدد طلباء کے اہل خانہ اور آزاد وکلاء کے علاوہ اس انسانی المیے کی قریب سے پیروی کرنے والے ماہرین کی شرکت کے ساتھ فوری کرائسز سیل کے قیام کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ کمیٹی عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مکمل تعاون سے بنائی جائے۔ مزید متاثرین کو روکنے اور معاملے کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ایرانی حکومت کو ان تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کی موجودگی کے لیے اجازت نامہ جاری کرنا چاہیے۔

انہوں نے ایران کے تعلیم اور صحت کے وزراء کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ اس قومی آفت سے نمٹنے میں ہزاروں طالبات کی زندگیوں اور صحت کے تحفظ، شفافیت کی کمی، خاندانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور بدانتظامی پیدا ہوئی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "لڑکیوں کے اسکولوں پر کیمیائی حملے کو قومی سلامتی کے خلاف کارروائی کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس حملے میں ملوث افراد اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں