ایران میں "اخلاقی پولیس" کی "الطف" کے نام سےدوبارہ واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں گذشتہ برس ستمبر میں ایک نوجوان لڑکی مہسا امینی کی مذہبی پولیس [گشت ارشاد] کے ہاتھوں موت کے بعد جب پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے پھوٹے تو حکومت نے عوامی غیض وغضب سے بچنے کے لیے متنازع پولیس کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ اعلان بہ ظاہر عارضی ثابت ہوا ہے۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں مذہبی پولیس کو ایک نئے نام کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص ایران میں 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی تقریبات منائی گئیں۔ "عورت، زندگی، آزادی" کے نعرے کے تحت خواتین کی ایک نئی انتفاضہ دیکھنےمیں آ رہی ہے۔ ایسے حالات میں ایرانی پارلیمنٹ کی رکن زہرہ الہیان نے پہلی مرتبہ خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر کہا کہ ایران میں مذہبی پولیس کو ایک نئی شکل میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئی اخلاقی پولیس کو "زبانی انتباہ گشت" (مانور یاد گذشت) کا نام دیا گیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ الہیان نے ’ٹویٹر‘پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "پہلا زبانی الرٹ گشت (گائیڈنس گشت) 7 مارچ کو تہران کے کچھ حصوں میں سپاہ پاسداران انقلاب کی زیرنگرانی شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گشت ارشاد کی نئی شکل میں ’پاسیج‘ فورس کی جانباز خواتین اہلکار شامل ہیں۔

ایرانی حکومت اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں کو "فساد" اور "غداری" سے تعبیر کرتی ہے اور مظاہرین پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ غیر ملکی عناصر کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جنہیں وہ دشمن سمجھتی ہے۔

تہران میں "زبانی وارننگ گشت" کی خبرزبان زد عام ہے جب کہ یہ اطلاع ملی کہ دارالحکومت اور دیگر شہروں کے کچھ علاقوں میں ایرانی خواتین کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی تھی، جنہوں نے لازمی نقاب کو مسترد کرنے کے نعرے والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ وہ حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

حالیہ دنوں میں لڑکیوں کے اسکولوں پر گیس حملوں کے بعد طالبات کو زہر دینے کے سلسلہ وار واقعات نے بڑے پیمانے پر ردعمل کو جنم دیا ہے۔ گذشتہ دنوں احتجاجی مظاہروں کی کال کے اعلان کے بعد تہران، تبریز، اصفہان اور زاہدان سمیت ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اخلاقی پولیس کا خاتمہ

ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے مظاہروں کے چند مہینوں کے بعد تہران کے اخلاقی پولیس اسٹیشن میں کرد لڑکی جینا (مہسا) امینی کے قتل کے بعد ایرانی پبلک پراسیکیوٹر محمد جعفر منتظری نےجمعہ 3 دسمبر 2022ء کو اعلان کیا تھا کہ "گشت ارشاد" کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اسے اخلاقی پولیس کہا جاتا تھا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس گشت کی سرگرمی کا ایرانی عدالتی اتھارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ فورس اسی جگہ سے بند کر دیا گئی تھی جہاں یہ ماضی میں قائم ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں