خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قائدانہ کردار ادا کرنے والی نمایاں سعودی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

خواتین کے عالمی دن پر سعودی عرب کی خواتین تمام شعبوں میں اپنی کامیابیوں کےجھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اس سال خواتین کا عالمی دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے 25 اپریل 2016 کو وزراء کی کونسل کی جانب سے مملکت کے ویژن 2023 کی منظوری کے تقریباً 7 سال پورے ہو رہے ہیں۔

سعودی خواتین نے اپنی قابلیت اور قوت ارادی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ کچھ متاثر کن سعودی خواتین رہنماؤں کو اجاگر کیا جائے جن کا سعودی عرب میں ہونے والی مثبت تحریک میں نمایاں کردار ہے۔

شہزادی ریما بنت بندر

شہزادی ریما بنت بندر پہلی سعودی خاتون ہیں جو امریکا میں خادم حرمین شریفین کی سفیر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔

وہ مملکت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی لگن اور حمایت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اسے یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے اور وہ یونیسکو کی مستقل رکن ہیں۔

وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی رکن بھی منتخب ہوئیں۔

شہزادی ھیفاء بنت محمد

انہیں جولائی 2022 میں بہترین عہدے پر سیاحت کی نائب وزیر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ستمبر 2017 سے سعودی فینسنگ فیڈریشن میں خواتین کی کمیٹی کی سربراہ بھی رہی ہیں۔ اس کے بعد جنوری 2020ء سے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن بھی ہیں۔

جولائی 2020ء میں اس نے ٹورازم ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شمولیت اختیار کی۔ اس کا ایک اعزازی تعلیمی ریکارڈ ہے، کیونکہ اس نے 2008ء میں نیو ہیون یونیورسٹی سے بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن حاصل کیا، پھر لندن سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

ایمن المطیری

ایمن مئی 2021 میں نائب وزیر تجارت مقرر ہوئیں اور دسمبر 2019ء میں شاہی حکم کے مطابق بہترین عہدے پر معاون وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ انہیں وزراء کی کونسل نے قومی مسابقتی مرکز کے سی ای او کے فرائض بھی تفویض کیے تھے۔

انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر کی مشیر، جنرل اتھارٹی برائے سرمایہ کاری کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین، جنرل اتھارٹی برائے سرمایہ کاری میں سٹریٹجک ٹرانسفارمیشن کے دفتر کی ڈائریکٹر اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی کے جنرل سپروائزر کے طور پر کام کیا۔

ہالہ التویجری

ہالہ ستمبر 2022 سے وزیر کے عہدے کے ساتھ انسانی حقوق کمیشن کی صدر کے عہدے پر فائز ہیں اور جولائی 2017 سے وہ "خاندانی امور کی کونسل" کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ "فیملی افیئر کونسل" کی سربراہ ہیں۔ "گروپ آف ٹوئنٹی" میں خواتین کو بااختیار بنانے کی ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

ہالہ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت میں ایک انتظامی مشیر، اپریل 2021 سے، پندرہویں نمبر پر ہے۔

وہ "شہزادی نورا ایوارڈ برائے خواتین کے اعزاز" کے لیے مشاورتی کمیٹی کی رکن بھی ہیں اور "سعودی عربین سوسائٹی فار کلچر اینڈ ہیریٹیج" میں ثقافتی پروگرام کے لیے مشاورتی بورڈ کی رکن بھی ہیں۔

وہ اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA) کی خواتین کمیٹی اور عرب لیبر آرگنائزیشن کی خواتین کی ایکشن کمیٹی کی رکن ہیں۔

بسمہ المیمان

بسما ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن میں مشرق وسطیٰ کی علاقائی ڈائریکٹر ہیں، اور سیاحت کے شعبے میں تقریباً بیس سال کا تجربہ رکھتی ہیں۔

اس نے اپنے قیام کے بعد سے جنرل اتھارٹی برائے سیاحت اور قومی ورثہ میں کام کیا اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں العلا اور الدرعیہ جیسے مقامات کو شامل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

غادہ المطیری

وہ بائیو انجینیرنگ ڈیپارٹمنٹ میں فیکلٹی ممبر ہیں اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو میں سینٹر آف ایکسی لینس ان نینو میڈیسن اینڈ انجینئرنگ کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

اس نے دس سے زیادہ پیٹنٹ اور بڑی تعداد میں ایوارڈز اور اعزازات حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی کمپنی eLux Medical Inc قائم کی ہے۔ ان کی دلچسپیاں اور ایجادات نانو میڈیسن اور بائیو انجینیئرنگ کے شعبوں میں مرکوز ہیں۔

شہزادی ھیفاء المقرین

شہزادی ھیفاء المقرین اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) میں مملکت کی مستقل نمائندہ ہیں۔

اس نے پہلے شاہ سعود یونیورسٹی میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ پھر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام میں ملازم کے طور پر کام کیا۔

عام طور پرشہزادی ھیفاء سماجی کاموں اور مملکت سعودی عرب اور باقی دنیا کے درمیان دوستی اور بقائے باہمی کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

لبنیٰ اولیان

سنہ2019ء میں انہوں سعودی برٹش بینک (SABB) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور اس کامیابی کے ساتھ وہ بینک چلانے والی پہلی سعودی خاتون تھیں۔

انہیں ٹائمز میگزین نے 2005 میں دنیا کی 100 بااثر ترین شخصیات میں شامل کرنے کے لیے منتخب کیا تھا اور ان کا نام فوربس کی سب سے طاقتور عرب خواتین کی فہرست میں لگاتار شامل کیا گیا تھا۔

شہزادی نورہ بنت فیصل

وہ سعودی فیشن ویک کی بانی ہیں جس کا مقصد مقامی ڈیزائنرز کو متعارف کرانا ہے۔ اس نے آرٹ ویک کا آغاز کیا تاکہ ان کے کام کے معیار کو بین الاقوامی معیار تک پہنچایا جا سکے۔ شہزادی نورہ اب سعودی وزارت ثقافت کی مشیر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

رانیہ نشار

رانیہ نشار اس سے قبل سامبا انٹرنیشنل گروپ کی سی ای او کے عہدے پر فائز تھیں اور انہیں فوربس کی دنیا کی طاقتور ترین خواتین کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اب وہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ کنگ سعود یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔

سارہ السحیمی

سارہ ’تداول‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرمین کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ اس ادارے کا قیام 2007 میں ہوا تھا اور یہ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج کمپنی ہے۔

وہ (NCB) کیپٹل میں سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن بھی تھیں، جہاں ان کے زیر انتظام اثاثوں کی قیمت دو گنی ہو گئی اور 2017 میں بلومبرگ نے ان کا نام 50 اہم ترین سعودی خواتین میں شامل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں