’’شام اور خطے کے ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کا خیر مقدم کرتے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام اور اس کے قریبی اتحادی ایران کے وزرائے خارجہ نے دمشق اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ کے تباہ کن زلزلے کے بعد سفارت کاری میں سرد مہری کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔

اس امر کا اظہار دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز دمشق میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا۔

شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا کہ شام کا مقصد ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کہا کہ ایران خطے میں مفاہمت تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے، بشمول چار ممالک ایران، روس، شام اور ترکی کی ملاقات، جس کا مقصد شام کے بحران کو حل کرنا ہے۔

ترکی شام کے شمال مغربی علاقے میں بشار الاسد کی حکومت کے مخالف باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔

شام کو زیادہ تر ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باعث الگ تھلگ کر دیا تھا، عرب لیگ نے 2011 میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی اور کئی عرب ممالک نے دمشق سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔

تاہم شام میں تباہ کن زلزلے کے بعد عرب ریاستوں کی جانب سے نرمی دیکھی گئی ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شام کو تنہا کرنا کام نہیں کر رہا ہے اور وہاں کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے دمشق کے ساتھ بات چیت کی ضرورت ہے۔

اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ نے خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد پہلی بار گذشتہ ماہ دمشق کا دورہ کیا۔

مصری وزیر کا یہ دورہ 7 فروری کو بشار الاسد اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان پہلی بار فون پر بات چیت کے بعد ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں