استحکام کا حصول ہی خطے کے ملکوں کا واحد راستہ ہے: فیصل بن فرحان

ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی مذاکرات کو ترجیح دینے کے سعودی ویژن کے تحت ہوئی: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعہ کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی سعودی عرب کے اس ویژن کے تحت ہو رہی ہے جس کی بنیاد مذاکرات کی ترجیح دینے پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ملکوں کی ایک تقدیر اس بات کو ضروری بناتی ہے کہ استحکام کا ماڈل تشکیل دیا جائے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ مملکت اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی مملکت کے سیاسی حل اور بات چیت کو ترجیح دینے پر اور خطے میں اسے برقرار رکھنے کی خواہش پر مبنی ویژن کے تحت آتی ہے۔ ایک تقدیر اور مشترکہ تقسیم کار ضروری بناتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کی خوشحالی اور استحکام کا ماڈل بنانے میں اشتراک کریں۔

سعودی عرب، چین اور ایران  کے درمیان معاہدے کے مناظر
سعودی عرب، چین اور ایران کے درمیان معاہدے کے مناظر

ان کا یہ بیان سعودی عرب اور ایران کی جانب سے آج سفارتی تعلقات بحال کرنے اور دو ماہ کے اندر سفارتخانے کھولنے کے لیے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب، ایران اور چین کے درمیان ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ میں طے پانے والے اس معاہدے میں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ سفیروں کے تبادلے کا بندوبست کرنے اور آپس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس کر رہے ہیں۔

سعودی عرب، چین اور ایران کے نمائندے
سعودی عرب، چین اور ایران کے نمائندے

سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے شائع ہونے والے سہ فریقی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران اور ریاض نے اپنے درمیان 2001 میں طے پانے والے سکیورٹی تعاون کے معاہدے کو فعال کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اسی طرح معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سائنس ، ثقافت ، کھیل اور دیگر شعبوں میں تعاون کے عمومی معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں نے اس حوالے سے 1998 میں معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں سعودی عرب اور ایران کی جانب سے ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنے اور دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اقرار بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں