امید ہے سعودی ایران معاہدے سے تہران کی پالیسیاں بدلیں گی: یمن

ملک اور خطے میں ایرانی رویے اور تباہ کن پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی آنے تک تہران کی حکومت سے محتاط رہیں گے: یمنی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی حکومت نے اعلان کیا کہ اسے امید ہے کہ سعودی ایران معاہدہ تہران کی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ یمنی حکومت نے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر زور دیا اور مذاکرات اور اختلافات کو سفارتی اور پرامن طریقے سے حل کرنے پر اپنے مخلصانہ اعتقاد کا اعادہ کیا۔ یمن کی حکومت نے کہا ہے کہ علاقے کی سلامتی اور استحکام کے حصول کے کسی بھی سنجیدہ اور مخلصانہ طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

یمن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمنی حکومت کو امید ہے کہ سعودی عرب اور ایران کا معاہدہ یمن میں ایران کی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ خطے میں تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ امید ہے کہ ایرانی حکومت نے اس معاہدے کی منظوری اندرونی حالات اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجہ میں نہیں دی۔

یمن کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ یمنی حکومت کا موقف الفاظ اور الزامات پر نہیں بلکہ اعمال اور طرز عمل پر مبنی ہے اور اس لیے وہ ایرانی حکومت کے ساتھ اس وقت تک محتاط رہے گی جب تک کہ وہ ہمارے ملک میں اپنے طرز عمل اور خطے میں اپنی تباہ کن پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی نہیں دیکھ لیتی۔

جمعہ کے روز ایران اور سعودی عرب نے برسوں تک جاری کشیدگی کے بعد تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کا اعلان دونوں ملکوں کے اعلیٰ سکیورٹی حکام کے درمیان بیجنگ میں چار دن پہلے کی غیر اعلانیہ بات چیت کے بعد ہوا۔

ایران، سعودی عرب اور چین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران اور ریاض نے اپنے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے اور زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے اندر اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی تصدیق بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں