سعودی ایران مفاہمت 'اچھی پیش رفت' ہے۔ حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے مسلح گروپ حزب اللہ کے سربراہ نے جمعہ کو کہا کہ اس کے حمایتی ایران اور دیرینہ حریف سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی ایک "اچھی پیش رفت" ہے۔

ایران اور سعودی عرب نے جمعے کو برسوں سے منقطع سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے جمعے کے روز ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔

نصراللہ نے خبردار کیا کہ اس اقدام کے مکمل مضمرات ابھی تک معلوم نہیں ہیں تاہم یہ خوش آئند بات ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "یقیناً یہ اہم پیشرفت اگر یہ اپنے فطری انداز میں آگے بڑھتی ہے تو یہ لبنان سمیت پورے خطے میں نئے افق کھول سکتی ہے۔"

حزب اللہ لبنان میں 1982 میں ایران کے پاسداران انقلاب نے قائم کی تھی اور یہ ایرانی حکومت کے علاقائی اتحاد کا ایک اہم حصہ ہے۔

گذشتہ برس نصراللہ نے سعودی عرب اور اس کی قیادت پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔ دریں اثنا، سعودی عرب نے لبنان سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست پر "دہشت گرد حزب اللہ" کے اثر ورسوخ کو ختم کرے۔

سعودی عرب اور متعدد دیگر خلیجی عرب ریاستوں نے 2021 کے آخر میں اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا اور لبنانی سفیروں کو ملک بدر کر دیا۔ سعودی عرب نے کہا کہ لبنانی ریاست پر حزب اللہ کا غلبہ ہے۔ لبنان کے ساتھ یہ سفارتی تعطل 2022 کے موسم بہار میں سفیروں کی واپسی پر ختم ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں