لبنانی رکن پارلیمان کا ڈیپازیٹر کی رقم نکالنے کے لیے بینک پردھاوا

لوگ خودکشیوں پر اتر آئے، غیر قانونی رقم روکی جارہی، مزید بینکوں پر بھی دھاوا بولیں گے: چاربل مساد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

لبنان میں غیر قانونی طور پر روکے گئے ڈیپازٹس کے مطالبے کے لیے بینکوں پر دھاوا بولنے کے واقعات سامنے آنا جاری ہے۔ اسی طرح کے ایک حالیہ واقعے میں ’’چینج بلاک‘‘ کے رکن پارلیمان ’’ چاربل مساد‘‘ نے لبنان کے جنوب کے علاقے ’’ سڈون‘‘ میں ایک بینک پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے کا مقصد ایک ڈیپازیٹر کی رقم کا مطالبہ کرنا تھا۔

چاربل مساد نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ بینک میں رقم جمع کرانے والوں میں سے ایک ڈیپازیٹر نے اپنی رقم کا سٹیٹس معلوم کرنے کے لیے مجھے بینک جانے کا کہا ۔ یہ رقم اس نے نے "صرافہ" پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کرائی تھی۔ یہ پلیٹ فارم ڈیپازیٹرز کو تین ماہ قبل بلیک مارکیٹ کی قیمت سے کم قیمت میں ڈالر خریدنے کی آفر کر رہا تھا۔ ڈیپازیٹر کے مطابق ایک سے زیادہ مرتبہ جائزہ لینے کے باوجود اسے اپنی رقم کا معلوم نہیں ہوسکا تھا۔

رکن پارلیمان نے بتایا کہ مجھے جس سے چیز سے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ میں مینجر سے بات کرنے کے لیے بینک کے اندر انتظار کر رہا تھا اور چار منی چینجرز انتظامیہ کے دفتر سے باہر آرہے تھے ۔ ان کے قبضے میں ڈالر کے چار تھیلے بھی تھے۔ میں نے یہ صورت حال دیکھی تو مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ بینک کے ساتھ ڈالروں کی خریدو فروخت کر رہے ہیں۔ چاربل مساد نے کہا یہ چیز اشتعال انگیز تھی کہ ایسے وقت میں جب ڈیپازیٹرز اپنی جمع کی ہوئی رقم سے بھی محروم ہیں ان منی چینجرز کو دھڑا دھڑ ڈالر دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجھے، قوم کے نمائندے کے طور پر بینک کا ڈائریکٹر دو گھنٹے انتظار کے بعد بھی نہیں ملا۔ حالانکہ ہم نے جائزہ لینے کے لیے پہلے سے اپائنٹمنٹ لے لی تھی تو پھر اس ڈیپازیٹر کی حالت کیسی ہوگی؟ یہ وہ ڈیپازٹر ہے جس نے اپنی زندگی کی پونچی کھو دی ہے اور ان بینکوں کا شکار بن گیا ہے۔ بینک لیکویڈیٹی کی کمی سے دوچار ہونے کا دعویٰ کرکے ان ڈیپازیٹرز پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ بینک حکام کے ساتھ تین گھنٹے سے زیادہ کی بات چیت کے بعد چاربل مساد بینک سے یہ وعدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا کہ وہ ڈیپازیٹر کو اس کی رقم پیر کو ادا کردی جائے گی۔

دوسرے بینکوں پر بھی دھاوا بولنے کا ارادہ

رکن پارلیمان چاربل مساد نے جمعہ کے روز بینک پر دھاوا بول کرایک ڈیپازیٹر کی رقم کا وعدہ حاصل کرلیا تاہم انہوں نے انکشاف کیا ہے ہے کہ وہ پیر کو ایک سے زیادہ علاقوں میں اور کئی بینکوں کی طرف بڑھیں گے تاکہ ان بینکوں سے ڈیپازیٹرز کی زیادہ سے زیادہ رقم نکلوا سکیں۔

انہوں نے کہا ’’ہماری تحریک پرامن اور قانون کے تحت ہوگی، یہ لوگوں کو کہاں لے گئے ہیں ؟ غربت کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے، خودکشیاں ایک سے زیادہ خطوں میں پھیل رہی ہیں، لوگ روز میرے پاس آتے اور بگڑتے ہوئے معاشی بحران کی شکایت کرتے ہیں اور ان کے پاس دوائی خریدنے یا ہسپتال کے بل ادا کرنے سکت نہیں ہے۔ دوسری جانب ان بینکوں نے غیر قانونی طور پر ان کی رقموں کو منجمد کر رکھا ہے۔

بینکوں کی ہڑتال

لبنان میں بینکوں کی ایسوسی ایشن نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ منگل 14 مارچ کی صبح سے بینک ہڑتال کر دیں گے۔ بینکوں نے عدالتوں کی جانب سے بعض ڈیپازیٹرز کے حق میں فیصلے آنے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا۔ چاربل مساد نے اس حوالے سے کہا بینکوں کے کھیل اب ہمیں دھوکہ نہیں دیتے، انہوں نے لوگوں کا پیسہ لیا اور اس پیسے کے ساتھ اپنی مرضی کی۔ بینک چاہتے ہیں کہ لوگ خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا اللہ میرے والد پر رحم کرے وہ فوت ہوگئے لیکن ان بینکوں میں جمع کرائی گئی اپنی رقم واپس نہیں لے سکے تھے۔ یہ وہ رقم تھی جو انہوں نے سکول ٹیچر کے طور پر ساری زندگی میں جمع کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’بینک لبنان‘‘ اور دیگر کئی بینک تین سال سے جو کچھ کر رہے ہیں اس میں کچھ سیاستدان، جج حضرات اور بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان ملوث ہیں۔ یہ سلسلہ 17 اکتوبر 2019 کے انقلاب کے وقت سے جاری ہے۔

کیپٹل کنٹرول ایکٹ

انہوں نے کہا کہ کیپٹل کنٹرول کا مسودہ قانون بینکوں کو عدلیہ کے سامنے جوابدہی سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس لیے ہمیں اس کے بارے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ایسے حل تلاش کرنے چاہئیں جو ڈیپازیٹرز کے لیے منصفانہ ہوں۔

چاربل مساد نے انکشاف کیا کہ بینکوں میں سے ایک بینک ڈپازٹر کی طرف سے دائر کیا گیا مقدمہ ہار گیا ہے۔ اس ڈیپازیٹر نے بینک سے 200,000 ڈالر کی جمع رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ادائیگی کا پابند کرنے والے عدالتی فیصلے سے بچنے کے لیے دو دن قبل اس بینک نے اپنے دروازے بند کردیے ہیں اوراس ڈیپازیٹر کو رقم دینے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے لبنان میں مالی اور بینکنگ کے بحران سے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایوان نمائندگان کیپٹل کنٹرول قانون کو منظور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ قانون لبنان کے اندر اور باہر مالیاتی منتقلی پر کنٹرول قائم کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ساتھ معاہدے کے لیے یہ قانون ایک بنیادی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں