عراق کے چار صوبوں میں 500 تک داعش جنگجو موجود ہیں: فوجی عہدیدار

تنظیم نے نئی ارکان بھرتی کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے: عراقی لیفٹیننٹ جنرل قیس المحداوی کی پریس کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عراق میں موجود داعش کے باقی رہ جانے والے افراد کی تعداد اور ان کی موجودگی کے مقامات کی وضاحت کردی۔ سینئر فوجی عہدیدار نے کہا کہ عراق میں ’’داعش ‘‘ کے لگ بھگ 400 سے 500 جنگجو باقی ہیں انہوں نے کہا تنظیم ’’ داعش‘‘ اب تک سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

فروری میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں شائع ہونے والے اندازوں کے مطابق اس گروپ کے 5,000 سے 7,000 ارکان اور حامی عراق اور شام کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں۔ ان افراد میں سے نصف کے قریب جنگجو ہیں۔

داعش نے 2014 میں عراق اور شام میں عروج حاصل کیا تھا۔ تاہم اس تنظیم کو واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی حمایت سے دونوں ملکوں میں متعدد فوجی کارروائیوں کے بعد شکست ہوگئی تھی۔ عراق نے 2017 میں شدت پسند تنظیم پر فتح کا اعلان کردیا تھا تاہم اس تنظیم کے عناصر اب بھی ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں سرگرم ہیں اور ہنگامی نوعیت کے حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔

تین سے چار صوبوں میں موجودگی

اتوار کو انسداد دہشت گردی سروس کے سربراہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل قیس المحداوی نے کہا کہ تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور درست معلومات کے مطابق تنظیم کے ارکان کی کل تعداد 400 تا 500 سے زیادہ نہیں ہے اور یہ جنگجو تین سے چار صوبوں میں موجود ہیں۔ قیس المحداوی نے مزید کہا کہ داعش نے نئے ارکان بھرتی کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔

دونوں عہدیداروں نے گذشتہ ماہ مغربی عراق اور شام کی سرحد پر واقع ’’الانبار‘‘ گورنری کے صحرا میں تنظیم کے ایک کیمپ کے خلاف کیے گئے فوجی آپریشن کا بھی ذکر کیا جس میں داعش کے 22 ارکان مارے گئے تھے۔

خاص نوعیت کا آپریشن

انسداد دہشت گردی سروس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب الساعدی نے کہا کہ آپریشن جسے ’’ فرسان الحق ‘‘ کہا جاتا ہے کو 26 فروری کو انجام دیا گیا تھا۔ یہ ایک خاص نوعیت کا آپریشن ہے۔ اس آپریشن میں کسی گروہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایسے رہنما موجود تھے جو گروپ کو مختلف صوبوں میں ہدایات دیتے تھے۔

سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق عراق میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے باوجود یہ تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔ 2022 میں عراق میں لگ بھگ داعش کے 150 ارکان کو ہلاک کیاگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ تنظیم عراق میں دیہی پہاڑی علاقوں میں کام کرتی ہے۔ یہ لوگ عراق اور شام کی غیر محفوظ سرحدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نقل و حرکت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں