ہم دو سال کے اندر آپریشنل ہو جائیں گے: ریاض ایئر

مسافروں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مربوط خدمات فراہم کریں گے: سی ای او ٹونی ڈگلس کا ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"ریاض ایئر" کے سی ای او ٹونی ڈگلس نے کہا ہے کہ "ریاض ایئر" کے آپریشنز ایک مربوط نیٹ ورک کے ذریعے سعودی عرب کو باقی دنیا سے جوڑ دیں گے۔ ’’العربیہ ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈگلس نے مزید کہا کہ نئی کمپنی دارالحکومت ریاض کو 100 بین الاقوامی مقامات سے منسلک کردے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کمپنی کا قیام تجارتی سول ایوی ایشن کے لیے ایک "پرجوش لمحہ" ہے یہ پہلی ڈیجیٹل قومی کمپنی ہوگی جو مسافروں کو آسان طریقے سے خدمات فراہم کرے گی۔

’’ ریاض ایئر‘‘ کے سی ای او نے مزید کہا کہ کمپنی صارفین کے تجربے اور خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دے گی۔ 100 مخصوص منزلوں میں مقامی اور علاقائی منزلیں شامل ہوں گی۔ بین الاقوامی مقامات کے ساتھ مزید رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت حاصل کی جائے گی۔ یہ تمام اقدامات سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے ایک حصے کے طور پر انجام پا رہے ہیں۔

ٹونی ڈگلس نے نئی ایئر لائنز کے کرائے کے متعلق کہا کہ کمرشل ایوی ایشن کا خطے میں مسابقتی فائدہ ہوگا۔ بہت سے عوامل ہیں جو ٹکٹ کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان عوامل میں لاگت اور فراہم کی جانے والی خدمات کا معیار شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی بڑھتی ہوئی مسابقت کے درمیان بین الاقوامی معیار کے ساتھ مکمل 5 سٹار خدمات فراہم کرے گی۔ کمپنی کے لیے تجارتی ہوا بازی کے شعبے میں حقیقی قدر فراہم کرنا ضروری ہے۔ ڈگلس نے توقع ظاہر کی کہ "ریاض ایئر " دو سال کے اندر آپریشنل ہو جائے گی۔

ایک روز قبل شہزادہ محمد بن سلمان اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نے نئی قومی فضائی کمپنی "ریاض ایئر " کے لیے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ "ریاض ایئر" کا قیام پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی حکمت عملی کے مطابق ہے تاکہ معیشت کے تنوع کو سہارا دینے کے لیے مقامی طور پر امید افزا شعبوں کی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں