تیل کی قیمتوں میں حد مقرر کرنا مارکیٹ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا: سعودی عرب‎‎

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے منگل کے روز اعلان کیا کہ "تیل کی قیمتوں پر زیادہ سے زیادہ کی حد لگانا لامحالہ مارکیٹ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ سعودی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائیوں پر قیمتوں کی حد نافذ کرے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’’انرجی انٹیلی جنس‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں توانائی کے وزیر نے سال کے آخر تک پیداوار میں کمی کے لیے ’’ اوپیک پلس‘‘ معاہدے کو برقرار رکھنے کے عزم کی توثیق کی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طلب میں اضافہ عالمی فاضل پیداواری صلاحیت کی موجودہ سطح سے تجاوز کر جائے گا اور ہنگامی ذخائر کم ہوتے جائیں گے۔ گزشتہ جمعرات کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ مملکت توانائی کی عالمی منڈی کے استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مستحکم مارکیٹ کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارکیٹ کو سال کے آخر تک پیداوار میں تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

منگل کو بات کرتے ہوئے سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ ہم نے اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت کو 2027 تک 13.3 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ سعودی وزیر نے توقع ظاہر کی کہ 2025 میں ہماری تیل کی پیداواری صلاحیت کی توسیع میں پہلے اضافے کا نفاذ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں