امید ہے علاقائی امن کے فروغ کے لیے ایران سے مذاکرات جاری رہیں گے: سعودی عرب

روس یوکرین بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: سعودی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے ایران اور سعودی عرب کی بات چیت جاری رہے گی۔ دونوں ملکوں اور خطے کے فائدے اور علاقائی اور بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری رکھنے کی امید ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کو ریاض کے عرقہ پیلس میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس کے آغاز میں کابینہ کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے صدر سے ملاقات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس ملاقات کے مواد میں کونسل، یمنی حکومت اور یمنی عوام کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کا اثبات بھی شامل تھا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان کوششوں کا مقصد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ اس کے بعد کونسل نے بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے اہم کردار سے پیدا ہونے والی خارجہ پالیسی کے تمام اقدامات پر بات کی۔ خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی خواہش اور تنازعات کے سیاسی اور بات چیت پر مبنی حل کو ترجیح دینے کا کہا گیا۔

اسی تناظر میں سعودی کابینہ نے چینی صدر شی جن پنگ کے اقدام کے جواب میں بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحالی کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پر غور کیا۔

کونسل نے معاہدے میں شامل ستونوں اور بنیادوں کے مطابق تعمیری بات چیت کو جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔ ایسی تعمیری گفت و شنید کی تائید کی گئی جس سے دونوں ملکوں اور خطے کو عمومی طور پر فائدہ پہنچے اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں اضافہ ہو۔

کابنیہ نے روس یوکرین بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی اور سعودی عرب کے اس موقف کی تجدید بھی کہ سعودی عرب دونو ں فریقوں کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں