ڈیڑھ صدی زندہ رہنے والے یمن کے دو سینگوں والے "ذوالقرنین" کی وفات

العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ اوسان سالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی علی عنترجنہیں "ذوالقرنین" بھی کہا جاتا ہے ایک سو چالیس سال زندہ رہنے اور طویل عمر پانے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دار فانی سے کوچ کرگئے۔

علی عنتر جو طویل عمرپانے کی وجہ سے ’ذوالقرنین‘ کے لقب سےبھی مشہور تھے کا تعلق دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں واقع الجوف گورنری سے تھا۔ انہوں نے ایک پوری صدی اور ایک تقریبا آدھی صدی کی زندگی پائی جسکی وجہ سے انہیں ’ذوالقرنین‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔

مگریمن کے ’ذوالقرنین‘ کی وجہ شہرت ان کی طویل عمر ہی نہیں بلکہ ان کے اس لقب میں پنہاں ایک اور حیران کن راز بھی پوشیدہ ہے۔علی عنترکے سرپر دو سینگ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے اقارب نے سینگوں کوسرجری کے بغیرآگ سے داغ کرختم کرنے کی کوشش کی جو علی عنتر کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ سینگ کٹنے کے تیسرے روز علی عنتر چل بسے۔

الجوف گورنری کے علاقے برط المراشی میں ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اتوار کو معمر شخص کی موت اس کی صحت اور دماغی حالت کی خرابی اور بڑھاپے کی علامات میں مبتلا ہونے کے بعد ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینگوں کو جدید طبی طریقے سے نہ کاٹنے اور روایتی طریقے سے سینگ کاٹنا ان کے لیے موت کا باعث بنا۔

یمنی اخبار "عدن الغد" کی رپورٹ کے مطابق علی عنترکے سر میں دو سینگ اس وقت نمودار ہوئے جب اس کی عمر ایک سو سال سے تجاوز کر گئی، جب یہ بڑھنے لگے اور اس کے سر کے آگے سے اس کے رخساروں پر لٹک گئے اور پھر اس کے منہ کی سیدھ تک پہنچ گئے۔

علی عنترکی زندگی میں تین صدیوں کا کچھ نا کچھ حصہ رہا ہے۔ اس نےانیسویں صدی کے آخر، بیسویں صدی پوری اور اکیسویں صدی کے دو عشرے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں