ایران: فائر فیسٹیول میں 11 ہلاک اور 3500 سے زائد زخمی

تہوار ’’ چہارچنبی سوری‘‘ 20 مارچ کو ختم ہونے والے ہر ایرانی سال کے آخری بدھ کی شام منایا جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں 15 مارچ کو ’’فائر فیسٹول ‘‘ منایا گیا۔ اس فیسٹول میں آتش بازی کی جاتی ہے۔ اس سال فیسٹول میں آگ لگنے اور حادثات سے کم از کم 11 افراد ہلاک اور 35 سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ زمانہ جاہلیت سے وراثت میں ملنے والی ان رسومات کے دوران "چہارچنبی سوری" تہوار ہر سال ایرانی سال کے آخری بدھ کی شام منایا جاتا ہے۔ ایرانی سال 20 مارچ کو ختم ہوتا ہے۔

نیشنل ایمرجنسی میڈیکل اتھارٹی کے سربراہ جعفر میادفر نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ 20 فروری سے شام کے شہر شنبہ سے متعلق حادثات میں 26 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ منگل کی رات کم از کم 11 افراد ’’ فائر فیسٹول‘‘ مناتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ 15 مارچ بدھ کو اس فیسٹول کو مناتے ہوئے 35 سو سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔

بعض اطلاعات کے مطابق شرکا اپنے آپ کو پاک کرنے کے لیے آگ پر چھلانگ لگاتے ہیں اور بری روحوں کو بھگاتے ہیں۔ اس رسم میں شریک شخص کہتا ہے "میں تمہیں اپنا پیلا رنگ دیتا ہوں اور میں تمہارا سرخ رنگ لیتا ہوں۔ اس قول کا معنی یہ ہے پیلا رنگ بیماری کا رنگ ہے اور سرخ رنگ زندگی کا رنگ ہے۔

20 برس قبل یہ تہوار نوجوانوں کے لیے ایک آؤٹ لیٹ میں بدل گیا جہاں عوامی مقامات پر پٹاخے اور آتش بازی شروع کی گئی۔ حکام کی جانب سے انتباہات کے باوجود اور علما کے منع کرنے کے باوجود لوگ اس تہوار کو منا رہے ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی ’’ اِرنا‘‘ نے منگل کو قومی پولیس کے سربراہ احمد رضا رادان کے حوالے سے کہا کہ ان کی افواج تعطیل کو سماجی تقریب سمجھتی ہیں، سیکورٹی کی تقریب نہیں سمجھتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں