غار ثور کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں اوراس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غار ثور مکہ مکرمہ کے شمالی پہاڑوں میں سے ایک کی چوٹی پرموجود اسلامی تاریخ کا ایک نمایاں مقام ہے۔

غار ثورکا نام اس پہاڑ کے نام پر رکھا گیا جس میں یہ غار واقع ہے۔ اسے جبل ثور اکحل کہا جاتا ہے کہ اس کا نام بھی ایک شخص کے نام پر رکھا گیا تھا جس کا نام ثور بن عبد منات تھا۔

غار ثور اسلامی تاریخ میں ایک یادگار مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ قرآن پاک سورۃ التوبہ کی آیت ’40‘ میں اس غار کی طرف اشارہ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيم‘۔

’’اگرتم رسول کی مدد نہیں کروگے تو اللہ ان کی مدد کرے گا۔ یاد کرو اس وقت کو جب ان کو کافروں نے گھرسے نکال دیا۔ اس وقت دو [ہی ایسے شخص تھےجن] میں [ایک ابو بکررضی اللہ عنہ]، دوسرے [ خود رسول اللہ] ، جب وہ دونوں غار[ثور] میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کی ایسی لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے، اور کافروں کی بات کو پست کردیا اور بات خدا ہی کی بلند ہے، اور خدا زبردست اور حکمت والا ہے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ﷺ کے جلیل القدر رفیق سفر تین دن تک وہاں رہے، دعوت حق کی پیروی کرنے والے مشرکین سے چھپے رہے۔ تین دن بعد غار سے نکلے اورمدینہ منورہ کی طرف عازم سفر ہوگئے۔

تاریخی اقوال اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غار ثور اسلام کا پہلا قلعہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت حق پیش کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے ظلم سے تنگ آ کراپنے رفیق صدیق اکبر کے ساتھ اس غار میں پناہ گزین ہوئے۔

جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حفاظت کی تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں پناہ لی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے۔ کفار قریش نے آپ ﷺ کا پیھچا کیا اور وہ غار ثور تک پہنچ بھی گئے مگراللہ کی حکمت سے وہ غار کے دھانےسے واپس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں اور وہ دیکھ نہیں پائے۔ بعض روایات میں مذکور ہے کہ اس غار کے دروازے پر مکڑی نے جالا بُن لیا جس سے کفار کولگا کہ یہ غار تو برسوں سے ویران پڑی ہوئی ہے۔

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ان کے بھائی عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان کے لیے کھانا لایا کرتے تھے اور وہ آپ ﷺ تک لوگوں کی خبریں بھی پہنچاتے۔ عامر بن ابھی فہیرہ نے ابن ابی بکرکو دیکھ لیا اور اس نے ان کا پیچھا کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور اپنے رب سے دعا کر رہے تھے کہ وہ انہیں ان سے دور کر دے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خوف زدہ تھے۔ ان کا خوف یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتا تو ہمیں اپنے پیروں کے نیچے دیکھ لیتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: (اے ابو بکر رضی اللہ عنہ! آپ دو لوگوں کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں جن کا تیسرا [ساتھی] خدا ہے)۔ یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہے۔

یہ غار شمالی جانب جبل ثور کی چوٹی پر ہے جسے مکہ مکرمہ کے جنوب میں وادی المفجر کے میدان میں "جبل اکحل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے وادی المفجر کے ذریعہ مکہ کے باقی پہاڑوں سے الگ کیا گیا ہے۔

یہ پہاڑ سطح سمندرسے 760 میٹر بلند ہے۔ غار طرف جانے والا پہاڑی راستہ ہمواراور بالائی حصہ ناہموار، چڑھنے کے لیے دشوار گذارہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں