یمن: مالک کی گرفتاری کے 4 سال بعد حوثی ملیشیا نے سپورٹس کمپلیکس پر قبضہ کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حوثی ملیشیا نے یمنی دارالحکومت صنعاء کے شمال میں واقع النہضہ سپورٹس کمپلیکس پر قبضہ کر لیا اور اس کے لیے ایک نئی انتظامیہ کا تقرر کردیا ہے۔ اس کمپلیکس کو اب مشکوک رقوم سے چلائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا پلیٹ فارم "یمن فیوچر" نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حوثی باغیوں سے وابستہ چار افراد کے عملے پر مشتمل مسلح افواج نے کمپلیکس پر چھاپہ مارا۔ اس کمپلیکس میں سوئمنگ پول، سپا حمام، بیت الخلاء اور جم شامل ہیں۔ حوثیوں نے کمپلیکس کی انتظامیہ کو بے دخل کر دیا۔ نگرانی کے لیے ایک عدالتی گارڈ مقرر کر دیا اور اس کی تمام بچت ضبط کر لی۔

یہ کارروائی حوثی ملیشیا کی جانب سے سپورٹس کمپلیکس کے مالک سرمایہ کار محمد خسروف کو گرفتار کرنے کے تقریباً 4 سال بعد کی گئی ہے۔ مالک محمد خسروف بھنگ کے استعمال کے الزام میں اب بھی جیل میں ہے۔ مالک محمد خسروف نے خود پر لگائے الزام کو بدنیتی پر مبنی قراردے رکھا ہے۔

8 سال قبل یمنی دارالحکومت پر اپنے کنٹرول کے بعد سے حوثی ملیشیا نے وسیع نیٹ ورکس کے ذریعے منظم لوٹ مار شروع کر رکھا ہے۔ اس مہم میں اپنے سیاسی، فوجی اور قبائلی مخالفین کی رقوم اور املاک کو ضبط کرلیا جاتا ہے۔ اس مہم میں عدلیہ، مرکزی بینک، سیکورٹی، انٹیلی جنس اور عدالتی محافظ کے اختیار کے تحت گروپ اور دیگر ادارے ملوث ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کی رپورٹوں میں حوثیوں کے نام نہاد "عدالتی محافظ" کے ذریعہ 3.7 بلین ڈالر سے زیادہ کے فنڈز، رئیل اسٹیٹ، منقولہ اور مخالفین اور مخالفین سے وابستہ کمپنیوں اور اداروں کی آمدنی پر قبضے کی دستاویز کی گئی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل ایک وسیع پیمانے کا حصہ ہیں جس میں حوثی مسلح تصادم کے دوران عدلیہ کو سیاسی سکورز طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں