"مجدو" دھماکے کا ملزم مارا گیا، دوبارہ اسرائیل آنے پر پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

میڈیا کے بلیک آؤٹ اور وسیع حفاظتی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حیفا کے مشرق میں 35 کلومیٹر دور "مجدو" میں ہونے والے بم دھماکے کا مرتکب ایک لبنانی تھا جس نے اسرائیل میں گھس کر "مجدو" جنکشن میں ایک بڑی بارودی سرنگ بچھا دی تھی۔ یہ پھر سرحدی علاقے کی طرف واپس چلا گیا۔ یہ ایک مرتبہ پھر اسرائیل میں دھماکہ کرنے کے لیے آیا تھا اور اسے مار دیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات اسرائیلی فوج، داخلی سکیورٹی سروس ’’شن بیت‘‘اور پولیس کے مشترکہ بیان میں سامنے آئی ہیں۔

بارودی سرنگ کے پھٹنے کے فوراً بعد فوج، پولیس اور سرحدی محافظوں کی کمک فورس کو مختلف علاقوں اور قصبوں میں تعینات کیا گیا اور کومبنگ آپریشنز شروع کردیے گیے۔ چوکیاں قائم کی گئیں اور اس جگہ سے گزرنے والی کاروں کی تلاشی لی۔ شمال میں حملہ آور لبنانی کی گاڑی جب قریب پہنچی تو سکیورٹی اہلکاروں نے اس کی تلاشی لی اور اس نے اپنی شناخت لبنانی کے طور پر کی۔ اس کے پاس سے دھماکہ کرنے کے لیے تیار ایک دھماکہ خیز بیلٹ اور دیگر ہتھیار ملے تو اسے فوراً گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے قتل نے ممکنہ طور پر ایک اور دھماکہ خیز کارروائی کو ناکام بنا دیا ۔ اسے لے جانے والے کار ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ ڈرائیور 1948 کے فلسطینی علاقوں کا عرب شہری ہے۔

سکیورٹی سروسز نے آپریشن کی تفصیلات پر بلیک آؤٹ نافذ کر دیا اور حملہ آور کے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ سکیورٹی اور فوجی حکام نے کہا ہے کہ پیر کے روز کا دھماکہ غیر معمولی تھا اور اسے کئی سالوں میں سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا۔

اسرائیلی سکیورٹی سروسز اس دھماکے میں لبنانی "حزب اللہ" سے کسی بھی ممکنہ تعلق کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں، کیونکہ یہ پتہ چلا ہے کہ کان میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد اس سے قبل اس پارٹی نے اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی میں استعمال کیا تھا۔

اس کارروائی کے مرتکب نے دھماکہ خیز مواد "مگیڈو " موڑ کے قریب رکھا تھا اور اس کے پھٹنے سے 21 سال کا نوجوان شرف الدین زخمی ہو گیا تھا۔ شرف الدین 1948 کے فلسطینی علاقوں کا رہائشی تھا۔

"مجدو" آپریشن نے سکیورٹی سروسز اور فوج کے لیے اس وقت ایک الجھن کی کیفیت پیدا کردی جب اس کے مجرم کی لاش قبضے میں لیے جانے کے بعد اس کی شناخت ظاہر کی گئی۔ جیسے ہی اس کی لبنانی شناخت معلوم ہوئی اور سخت سکیورٹی مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس لبنانی کے علاقے تک پہنچنے اور شمالی علاقے میں گھنٹوں قیام کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی ہدایت کردی گئی۔

جن منظر ناموں کو بحث کے لیے پیش کیا گیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سرنگ کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہوا، یہ سرنگ حال ہی میں کھودی گئی تھی۔ فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے لبنان سے اسرائیل تک پھیلی ہوئی تمام سرنگوں کو بند کر دیا ہے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے تفصیلات بتانے سے پہلے کہا کہ جو بارودی سرنگ پھٹ گئی وہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی افواج کے خلاف بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ملتی جلتی ہے۔ اس دھماکے کا پس منظر قومی ہے۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا ہے کہ ہم حزب اللہ کو دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں ۔ اس حوالے سے ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہمیں آنے والے سالوں میں ایک کثیر محاذی محاذ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں