ایران نے ایک کرد ’سیاسی کارکن‘ کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انسانی حقوق کی دو تنظیموں کے مطاب کل جمعہ کو ایرانی حکام نے ایک کرد شہری کو پھانسی دے دی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تختہ دار پر لٹکائے شہری کا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت سے ہے جس پر ایران میں پابندی عاید ہے۔

"ایران میں انسانی حقوق" اور ناروے میں قائم "ہینکاو" نامی تنظیموں نے بتایا کہ محی الدین ابراہیمی کو جمعہ کی صبح شمال مغربی ایران کی اورمیا جیل میں پھانسی دی گئی۔ انہی ذرائع کے مطابق اسی جیل میں پانچ دیگر افراد کو بھی صبح کے وقت منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔

جیل کے سامنے مظاہرہ

ہینکاؤ نے اشارہ کیا کہ ابراہیمی کے اہل خانہ کو سب سے پہلے اس کی سزا معطل کرنے کے بعد کسی دوسری جیل میں منتقلی کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ بعد میں اہل خانہ سے کہا گیا کہ وہ ابراہیمی کی لاش جیل سے لے جائیں۔

ابراہیمی کو ایرانی کرد ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستگی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار گیا جو ملک میں ایک کالعدم مسلح گروپ ہے جس نے ایران کے کرد آبادی والے علاقوں میں خودمختاری کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔

تاہم ابراہیمی کسی قسم کی مسلح کاروائیوں میں ملوث ہونے سےانکار کرتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نےاسے سیاسی قیدی قرار دیا۔ ابراہیمی کو 2017ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جب ابراہیمی کے رشتہ داروں کو اس کی پھانسی کا علم ہوا تو ان کی بڑی تعداد اورمیہ جیل کے باہر جمع ہوگئی اور اس نے پھانسی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں