صنعاء میں عمارتوں کا قتل عام، حوثی ملیشیا تاریخی بازاروں کو مسمار کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعا میں عمارتوں کا قتل عام شروع کردیا۔ حوثی ملیشیا نے اس حوالے سے تاریخی یادگاروں اور بازاروں کو بھی مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران یمنی ایک ایسے منصوبے کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے حوثی ملیشیا صنعا ء میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت لگ بھگ 4 مشہور بازاروں کو مسمار کر کے ان کی جگہ مذہبی مقامات اور مزارات کی تعمیر کی جائے گی۔

قدیم صنعا کا ایک منظر
قدیم صنعا کا ایک منظر
Advertisement

تاہم اس منصوبے کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس میں مقبول بازاروں کی تاریخی اہمیت رکھنے والی سینکڑوں دکانوں کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ یہ بازار اور دکانیں یمنی شناخت کی وجہ سے بھی ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں یونیسکو میں یمن کے مندوب محمد جمیح نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو یہ خطرناک ثابت ہوگا۔ حوثی ملیشیا کےاس اقدام سے شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ دو روز قبل اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک طویل تبصرے میں محمد جمیح نے قدیم صنعاء میں سینکڑوں روایتی دکانوں کے قتل عام کے حوثی منصوبے کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے منہدم کر کے وہ اس شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اس جرم کی ذمہ داری بین الاقوامی اداروں اور تمام یمنی شہریوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ان دکانوں کی جگہ ایک نیا نظریاتی مزار قائم کرنا ہے۔ یہ ایک ایرانی طرز کی مذہبی عبادت گاہ ہوگی ، اس طرح تاریخی صنعاء کی یمنی علامت کو تبدیل کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم ’’یونیسکو ‘‘ نے 1986 میں صنعاء کے قدیم شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس شہر کی تاریخ 2500 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ مکمل طور پر تاریخی دیواروں سے گھرا ہوا تھا لیکن آج ان میں سے صرف ایک دیوار باقی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں