خبردار کھلونوں کی بیٹریاں بچوں کی صحت کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن (ایس اے ایس او) نے گول لیتھیم بیٹریوں کے خطرات سے خبردار کیا ہے جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔ ایسی بیٹریاں جو سکوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں تین سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے مضرثابت ہوسکتی ہیں۔

اس تناظر میں اتھارٹی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک آگاہی ویڈیو جاری کی ہے جسے "کہیں آپ کا بچہ اگلا شکار نہ ہو" کا عنوان دیا گیا ہے۔آرگنائزیشن کے سرکاری ترجمان انجینیر وائل دیاب نے کہا کہ یہ بیٹریاں صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ خطرات کا باعث بن سکتی ہین اور جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں۔

وہاب نے مزید کہا کہ بیٹریاں عام طور پر کھلونوں کے اندر ہوتی ہیں اور انہیں مضبوطی سے بند کیا جاتا ہے تاکہ بچہ ان تک نہ پہنچ سکے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ تبدیل کی گئی بیٹریوں کو بچوں کی پہنچ سے مکمل طور پر دور رکھا جائے تاکہ ان کی حفاظت ہو سکے۔

اسی حوالے سے کنگ سعود یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر عبداللہ الشہری نے ایک تین سالہ بچے کے کیس کے بارے میں بتایا جس نے کچھ کھلونوں میں سے کئی مقناطیسی سیل اٹھائے اور انہیں نگل لیا۔ یہ سیل اس کی چھوٹی آنت کی دیوار میں گھسنے کا باعث بنے اور اس کی ایک بڑی سرجری ہوئی جس کے نتیجے میں ان سیلوں کی وجہ سے آنت کے ایک بڑے حصے کو نکال دیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اتھارٹی نے بیٹریوں اوراس طرح کی دیگر اشیاء پر مشتمل پرزوں کو جو بچوں کی حفاظت اور زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں سختی سے بند کرنے کی ضرورت زرو دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں