مغربی کنارے میں جرمن سیاحوں پر حملہ غلط شناخت کا معاملہ ہے: ترجمان فلسطینی اتھارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی سروسز کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز کہا ہے کہ نابلس میں جرمن سیاحوں پر حملہ کرنے والے فلسطینیوں کو خدشہ تھا کہ وہ اسرائیلی فوجی ہیں اور یہ حملہ غلط شناخت کا شاخسانہ ہے۔

یہ دونوں سیاح ہفتے کے روزمقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہرنابلس سے گذررہے تھے،جب ان پر حملہ کیا گیا۔

Advertisement

فلسطین کے ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ نوجوانوں کےایک گروپ نے اسرائیلی لائسنس پلیٹوں والی ایک سویلین گاڑی پر پتھراؤکیا تھا۔

اسرائیل میں جرمن سفیراسٹیفن سیبرٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ سیاحوں پرحملہ قابل نفرت اور بزدلانہ اقدام ہے۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز کے ترجمان طلال ضویکت نے اے ایف پی کو بتایاکہ’’ہم واضح طور پرایک ایسے ملک کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتے جس کے شہری ہمارے شہروں کا دورہ کرتے ہیں‘‘۔

طلال ضویکت کے مطابق،اس میں شامل افراد ایک "غیر ملکی" کار کے بارے میں "محتاط" تھے۔انھیں خدشہ تھاکہ اسے اسرائیل کی خفیہ افواج استعمال کررہی ہوں گی۔یہ خفیہ صہیونی فورسزمغربی کنارے میں کام کرتی ہیں۔اس فلسطینی علاقے پر1967 کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے اسرائیل کا قبضہ ہے۔

ترجمان نے کہاکہ سیاحوں کوایک فلسطینی پولیس افسر نے بچایا اور اس نے انھیں شہر کے مرکز سے باہر نکلنے میں مدد کی جبکہ سیبرٹ نے "فلسطینی اسرائیلی شہری کا شکریہ ادا کیا جس نے انھیں بچایا تھا"۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں تشدد آمیز واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوکی دائیں بازو کی حکومت کے دورمیں پیش آیا ہے۔اس حکومت نے دسمبرمیں اسرائیل میں اقتدار سنبھالا تھا۔

مغربی کنارے کے شمالی علاقے خاص طورپرنابلس اور جنین کے شہروں میں اسرائیلی فوج فلسطینی عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئے دن مہلک حملے کرتی رہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں