اسرائیلی ایلیٹ ملٹری یونٹ کے ریزرو فوجی بھی احتجاج میں شامل

450 مظاہرین نے خود کو فوج کے خصوصی دستوں میں ریزرو رضاکار بتایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلیوں کے ایک گروپ جو خود کو ایلیٹ ملٹری یونٹس اور انٹیلی جنس سروسز میں ریزروسٹ کے طور پر بیان کرتا ہے نے کہا ہے کہ وہ جوڈیشل اتھارٹی کے قانون میں ترمیم کرنے کے حکومتی منصوبے کے خلاف مظاہروں کی شدت میں اتوار سے شروع ہونے والے کال اپ آرڈرز کا جواب نہیں دیں گے۔

62
62
Advertisement

دوسری طرف وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اتحاد کے ارکان جن کی کنیسٹ میں اکثریت ہے کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے والی مجوزہ ترامیم کو 2 اپریل تک قانون کی شکل دے دی جائے۔

ترامیم کی منظوری کے قریب آنے کے ساتھ ہی مظاہروں میں اضافہ ہوگیا اور شیکل کی قدر میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔ قومی سلامتی کی خدمات کے سابق فوجیوں نے عوام کے سامنے آنے سے گریز کرنے کی عادت کے بجائے اپنے خوف کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کو بھیجے گئے ایک خط میں 450 مظاہرین جنہوں نے خود کو فوج کے خصوصی دستوں میں رضاکار ریزروسٹ بتایا تھا اور 200 جنہوں نے خود کو سائبر حملوں سے متعلق کارروائیوں میں رضاکار ریزروسٹ بتایا تھا نے احکامات پر عمل کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان رضا کاروں میں موساد اور شن بیٹ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف نیتن یاہو مجوزہ عدلیہ سے متعلق ترامیم کو حکومت کی شاخوں میں توازن کے طور پر بیان کر رہے ہیں ۔ نیتن یاھو کے ناقدین کہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کرپشن الزامات کے تحت ٹرائل سے گزر رہے ہیں اور اس دوران وہ عدالتوں کو ایگزیکٹو اتھارٹی کے تابع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتوار کو کنیسٹ میں ایک نظرثانی کمیٹی ایک بل پر بحث کرنے والی ہے جو حکمران اتحاد کو عدالتوں میں تقرریوں پر زیادہ اختیار دے دے گا ۔ اس کے بعد حتمی پارلیمانی ووٹنگ ہوگی۔

نیتن یاہو نے فوج کی صفوں میں مظاہروں کی رسائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ایسے ادارے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا جسے سیاست سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ اپوزیشن رہنماؤں نے کا کہنا ہے کہ "ظلم " کے لئے حکومت کی سوچ قومی فرض کے خیال کو ٹھیس پہنچائے گی۔

اس تناظر میں شن بیت کے سابق ڈائریکٹر ناداو ارگمان نے چینل 12 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ جب کوئی ملک آمریت کے عروج پر پہنچ جاتا ہے تو یہ امکان ہوتا ہے کہ ہم وہاں سیکورٹی سروسز کے خاتمے کا مشاہدہ کریں گے، یہ غیر معمولی خوفناک بات ہے۔

اتوار کے ریزروسٹ احتجاج میں حصہ لینے والے اور خود کو ایک ملٹری انٹیلی جنس کیپٹن کے طور پر بیان کرنے والے ایک شخص نے اسرائیل پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ وہ اور دیگر دستخط کنندگان جزوی طور پر رضاکار ہیں کیونکہ ان کے وقت کے وعدے عام ریزروسٹ کوٹے سے زیادہ ہیں۔

جنگ کے اوقات میں لازمی کال اپ کی صورت میں احتجاج کی معطلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم احکامات کو مسترد کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم عارضی طور پر رضاکارانہ طور پر احکامات کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

زیادہ تر اسرائیلیوں کو دو سے تین سال کے لیے فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ کچھ درمیانی عمر میں ریزرو فرائض انجام دیتے رہتے ہیں۔ یاد رہے ریزروسٹوں نے اسرائیل کو پچھلی جنگیں جیتنے میں مدد کی تھی۔ اسرائیل نے حال ہی میں باقاعدہ افواج پر انحصار کیا ہے۔

تاہم، کچھ یونٹس ریزروسٹوں کو ان کے جمع کردہ تجربے اور مہارت کی وجہ سے خاص طور پر قابل قدر سمجھتے ہیں۔ مظاہروں میں حصہ لینے والے فضائیہ کے ایک پائلٹ نے چینل 12 ٹی وی کو بتایا کہ شام میں بمباری کے حملوں میں حصہ لینے والے فضائی عملے میں سے 60 فیصد رضاکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں