سعودی عرب میں گیارہ ملین ریال کے فراڈ میں ملوث گروپ بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے مالی فراڈ کے ذریعے 11 ملین ریال سے زیادہ کی رقم ہتھیانے کے الزام میں ایک گروپ کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس مجرم تنظیم کے خلاف مالی فراڈ کے 150 سے زائد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایک مقامی اور ایک غیر ملکی پر مشتمل ہے جو شہریوں اور غیرملکیوں کو خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرکے ان کی ذاتی معلومات حاصل کرتا اور ان کے بینکوں سے رقم چوری کرتا رہا ہے۔ اس مکروہ دھندے کے لیے ملزمان کمپیوٹر ڈیوائسز اور موبائل فون کی سموں کا بار بار استعمال کرتے رہے ہیں۔

تفصیل کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مالی فراڈ کرائمز پراسیکیوشن نے 150 مالی فراڈ کے جرائم میں حصہ لینے والے ایک شہری اور عرب شہریت رکھنے والے غیرملکی سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

تفتیش سے معلوم ہوا کہ شہری نے ایک فرضی کمپنی کے ساتھ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے شعبے میں دور سے کام کرنے اور سم کارڈز کو ایکٹیویٹ کرنے اور کالز پاس کرنے سے متعلق الیکٹرانک ڈیوائسز وصول کرنے اور انہیں اپنے گھر میں چلانے کا دھندہ شروع کیا۔ مقامی ملزم غیرملکی سے سم کارڈ وصول کرتا اور انہیں آلات پر ایکٹیویٹ کرتا اور انہیں مختصر مدت کے لیے استعمال کرنے کے قابل بناتا۔ بعد میں سکیورٹی حکام کی جانب سے ٹریکنگ کو روکنے کے لیے انہیں فوری طور پر منسوخ کر دیتا۔

شہری کے گھر کی تلاشی لینے پر معلوم ہوا کہ اس کے پاس پورٹس اور سم ایکٹیویٹ ڈیوائسز کی تعداد 33 ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ براڈکاسٹنگ ڈیوائسز، براڈکاسٹ انہینسڈ ڈیوائسز اور ایک باکس جس میں (94) چپس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ گھر سے ملنے والی اشیا میں کاغذات اور نوٹ بک جن میں لوگوں کی معلومات، پتے، نمبر اور علامتیں لکھی گئی تھیں۔

آلات کو تکنیکی طور پر جانچنے سے، متاثرین کے ساتھ کی گئی کالوں کی 4000 سے زیادہ آڈیو ریکارڈنگ، جہاں ہر آڈیو فائل کو سم نمبر کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے جس پر کال کا وقت اور تاریخ بھی موجود ہے قبضے میں لی گئی ہیں۔

تفتیش سے انکشاف ہوا کہ شہری نے غیرملکیوں کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں الیکٹرونک ڈیوائسز کے استعمال، ان کو چالو کرنے اور ان پر کمیونیکیشن چپس لگانے کے بارے میں تربیت دی، جس سے وہ فریق متاثرین کے ساتھ بات چیت کرنے، سرکاری اداروں کے ملازمین اور مالیاتی اداروں کے ملازمین کی نقالی کرنے کے قابل ہوئے۔ اس کے بعد یہ گروپ شہریوں سے ذاتی یا بینکنگ ڈیٹا کی درخواست کرتے اور ان کی رقم ضبط کرتے۔ دھوکے اور فراڈ سے لی گئی رقم کا تخمینہ (11) ملین ریال سے زیادہ ہے اور اس حوالے سے اب تک سکیورٹی حکام کو 150 شکایات موصول ہوئی ہیں جن پر کارروائی جاری ہے۔

ذریعے نے بتایا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور اس سلسلے میں مقرر کردہ سزاؤں کے لیے مجاز عدالت سے رجوع کیا گیا، جبکہ بین الاقوامی تعاون پراسیکیوشن نے مجرموں اور مملکت سے باہر فنڈز کا سراغ لگانے کے لیے اپنا طریقہ کار شروع کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں