قاسم سلیمانی نے عراق پرامریکی حملے کی حمایت کی تھی: مسعود بارزانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی کرد رہ نما مسعود بارزانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی نے عراق پرامریکی حملے کی حمایت کی تھی۔

انھوں نے اتوار کے روز شائع شدہ ایک انٹرویو میں مزیدانکشاف کیا ہے کہ انھوں نے 2003ء میں عراق پرامریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے حملے سے قبل قاسم سلیمانی سے ملاقات کی تھی۔

مسعود بارزانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) کے رہ نما اورسنہ 2005 سے2017ء تک عراقی کردستان کے صدررہے تھے۔انھوں نےکہا کہ قاسم سلیمانی اس ملاقات کے وقت ایرانی حکومت میں عراق فائل کے ذمے دارتھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قاسم سلیمانی نے عراق پر حملے اور صدام حسین کا تختہ الٹنے کی حمایت کی تھی تو بارزانی نے جواب دیا:’’ہاں‘‘۔

انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ایران عوامی سطح پرامریکا کے زیرقیادت حملے کی حمایت کا اعلان نہیں کرسکتا تھا لیکن اس نے صدام حسین کا تختہ الٹنے کو ’’عظیم فتح‘‘قرار دیا تھا۔

یادرہے کہ اس سے قبل صدام حسین کے دور حکومت میں عراق اور ایران کے درمیان 1980 سے 1988 تک جنگ جاری تھی۔

میجرجنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020 کو عراقی دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک امریکی فوج کے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔اس حملے کا حکم اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔قاسم سلیمانی ایران کی القدس فورس کے سربراہ تھے اور یہ بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں