اسرائیل نے متنازعہ نقشے پر اپنے وزیر کے طرزعمل کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن نے کہا کہ اسے اسرائیل کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اپنے وزیر خزانہ بتسلائیل سموتریچ کے متنازعہ نقشے کے حوالے سے طرز عمل کو مسترد کرتا ہے۔


ایک سرکاری ذریعہ نے منگل کو کہا کہ اعلیٰ اسرائیلی حکام نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہےاور کہا کہ وہ اردن کی سرحدوں کا احترام کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر نے گذشتہ روز فرانس میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران پوڈیم پر گریٹر اسرائیل کا نقشہ استعمال کیا تھا جس میں اردن اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا تھا۔

اردن نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستانہ قرار دیا اور اسرائیلی سفیر کو طلب کیا تھا۔


اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر کا طرز عمل لاپرواہی پر مبنی اور اشتعال پر اکسانے والا ہے۔ یہ بیان بین الاقوامی اصولوں اور اردن اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی کی نمائندگی کر رہا ہے۔

وزارت کے سرکاری ترجمان سنان المجالی نے کہا کہ ان کا ملک انتہا پسند اسرائیلی وزیر کی طرف سے برادر فلسطینی عوام اور ان کے وجود کے حق، خود مختاری کے حوالے سے ان کے تاریخی حقوق کے خلاف دیے گئے نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتا ہے۔ ایسے انتہا پسند نسل پرستانہ اقدامات کو خطرناک قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور اردن کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے امن معاہدہ قائم ہے۔

سموتریچ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد میں ایک قومی مذہبی جماعت کے سربراہ ہیں جو اپنے اشتعال انگیز اور فلسطین مخالف بیانات کے باعث خبروں میں رہتےہیں۔ اسی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ "فلسطینی عوام' محض ایک خیالی اختراع ہے" ، جس پر امریکہ سمیت کئی ممالک نے مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں