سعودی عرب کی اسرائیلی وزیر کے فلسطینیوں سے متعلق اشتعال انگیز بیان کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے اسرائیلی حکومت میں شامل ایک انتہا پسند وزیر کے فلسطینی عوام کےبارے میں متنازع بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم ریاست فلسطین اور اس کے برادر عوام کے خلاف اسرائیلی قابض حکومت کے ایک اہلکار کے جارحانہ اور نسل پرستانہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کی طرف سے جاری ایک میں اسرائیلی وزیر بزلئیل سموٹریچ کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ایک غیرملکی ٹی وی کو دیے گئےانٹرویو میں کہا تھا کہ ’فلسطینی عوام کی اصطلاح ایک فرضی بات ہے جو سو سال سے زیادہ پرانی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کا کوئی تاریخی وجود نہیں ملتا‘۔ عالم اسلام کی طرف سے اسرائیلی وزیر کے متنازع بیان پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

"امن مساعی کو نقصان پہنچانے کا باعث"

سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر کے اشتعال انگیز الفاظ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تشدد کا باعث بننے والے بیانات ، نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کو ہوا دینے والے اقدامات ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہیں۔ سعودی عرب ایسے تمام اقدامات اور بیانات کو مسترد کرتا ہے جوامن مذاکرات اور بین الاقوامی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔

سعودی عرب نے مسئلہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل کے حوالے سے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سنہ 1967ء کے مقبوضہ عرب علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔

مبینہ نقشہ اور اشتعال انگیز بیانات

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ پیرس میں تقریر کرنے کے لیے پوڈیم پر چڑھے تو اس پر اردن کے الحاق پر مبنی نام نہاد اسرائیلی سرزمین کا نقشہ بھی موجود تھا۔ اردن کی جانب سے وزیر کی اس اشتعال انگیزی کے خلاف اردن کی عوام اور حکومت کی جانب سے رسمی احتجاج کیا گیا ہے

سموٹریچ نے اتوار شام کے وقت تقریب میں شرکا کے سامنے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ فلسطینی عوام جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہ تو سو سال سے بھی کم پرانی ایجاد ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں