غرب اردن میں سابقہ یہودی بستیوں کی دوبارہ آبادکاری

یہودی کالونیوں سےانخلا کا قانون منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] نے آج منگل کو اپنی تیسری اور آخری رائے شماری میں سنہ2005 ء میں منظور کیے گئے "انخلا" کے قانون کے خاتمے کی منظوری دی۔یہود بستیوں کوخالی کرنے کے قانون کی منسوخی کے بعد غرب اردن کے شمالی علاقوں میں قائم کی گئی اسرائیلی بستیوں کو دوبارہ آباد کرنے کا موقع ملے گا۔

کنیسٹ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ یہ منظوری 31 سے 18 ووٹوں کی اکثریت سے حاصل کی گئی۔

اسرائیلی ویب سائٹ (Ynet) کے مطابق 18 سال سے نافذ العمل قانون کے خاتمے سے یہودی آباد کاروں کو مغربی کنارے میں ہومش بستی میں رہنے اور اسے دوبارہ بسانے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے اجازت ملتے ہی نابلس کے قریب غیر قانونی طور پر ایک تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

درایں اثنا اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے آباد کاروں کی خالی کردہ بستیوں میں واپسی کی منظوری کی مذمت کی ہے۔ حماس نے فلسطینی اتھارٹی سے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈینیشن روکنے کا مطالبہ کیا۔

ایک بیان میں حماس نے اس اقدام کو اسرائیلی حکومت اور آباد کاروں کی "نئی بستیوں کی چوکیاں بنانے اور فلسطینی سرزمین کو چوری اور یہودیانے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں