اسرائیل نے مغربی کنارے کی 4 بستیوں میں واپسی کی اجازت دے دی، امریکا کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات نے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کو بڑھا دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تاریخی اتحاد کے باوجود امریکا نے گذشتہ دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے اقدامات پر ایک سے زیادہ بار ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے کل منگل کو مقبوضہ مغربی کنارے کی چار بستیوں میں یہودی آباد کاروں کی واپسی کا راستہ صاف کرنے کے لیے 2005 میں منظور کیے گئے ایک قانون میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ان بستیوں سے آبادکاروں کے انخلاء کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

"تشویش کا اظہار"

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ امریکا کو کنیسٹ کے اس اقدام سے "انتہائی تشویش" ہے، انہوں نے اپنے ملک کے موقف پر زور دیا کہ " اسرائیلی بستیوں کا مسلسل قیام امن اور دو ریاستی حل کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ "

انہوں نے کل شام نامہ نگاروں کو دیئے گئے بیانات میں مزید کہا کہ "ایسے وقت پر جب علاقے میں گشیدگی عروج پر ہے، یہ قانون سازی اور تبدیلیاں خاص طور پر اشتعال انگیز اور امن کی بحالی کی کوششوں کے مخالف ہیں جب کہ ہم ، (تینوں مذاہب کے مذہبی تہوار) رمضان، عید فصح اور ایسٹر کے قریب ہیں۔"

یہودی بستیاں : اے ایف پی
یہودی بستیاں : اے ایف پی

یورپی یونین نے بھی کنیسٹ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام "جنگ بندی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے... اور اسرائیل-فلسطین کے درمیان امن عمل کو پیچھے دھکیل دے گا"۔

یہ قانون سازی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد کی طرف سے اب تک کی بڑی پیش رفتوں میں سے ایک ہے، جو ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب چند ہی دن پہلے اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ، تشدد اور اشتعال انگیزی کو روکنے کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

چار بستیاں

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابقہ ​​ قانون میں سے کچھ شقوں کی منسوخی سے یہودی آبادی کو مغربی کنارے کی چار غیر قانونی بستیوں میں واپس جانے کی اجازت ملے گی، جب کہ 2005 میں انہیں انخلا کا حکم دیا گیا تھا۔

1967 کی جنگ کے بعد سے، اسرائیل نے ان علاقوں پر تقریباً 140 بستیاں قائم کی ہیں جنہیں فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا ایک لازمی حصہ سمجھتے ہیں، اور اب وہاں 500,000 سے زیادہ آباد کار رہتے ہیں۔

مجاز بستیوں کے علاوہ، آباد کاروں کے گروپوں نے حکومتی اجازت کے بغیر درجنوں آوٹ پوسٹ یا چوکیاں بھی قائم کی ہیں۔

1967 کی جنگ میں اسرائیل کے زیر قبضہ زمینوں پر تعمیر کی گئی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے، اورعالمی طاقتوں کا خیال ہے کہ ان بستیوں کی توسیع قیام امن میں رکاوٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں