امریکا کی ایران کی ڈرون انڈسٹری پر نئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل منگل کو امریکا نے ایران اور ترکیہ میں چار اداروں اور تین افراد پر ایران کے ڈرون اور ہتھیاروں کی تیاری کے پروگراموں میں مدد کے لیے یورپی ساختہ ڈرون انجنوں سمیت آلات کی خریداری میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آلات کی فراہمی کا نیٹ ورک ایرانی وزارت دفاع اور معاونت کی جانب سے کام کرتا ہے۔

یہ پابندیاں تازہ ترین ہیں جو واشنگٹن نے ایران میں ڈرون انڈسٹری کو نشانہ بنانے کے ایک حصے کے طور پر لگائی ہیں۔

امریکا نے اس ماہ کے شروع میں چین میں قائم ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ڈرون تیار کرنے والی ایک ایرانی کمپنی کو طیاروں کے پرزے بھیجے ہیں جنہیں تہران آئل ٹینکرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور روس کو برآمد کرتا تھا۔

دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا "ایران کی جانب سے ڈرونز اور روایتی ہتھیاروں کی اس کے پراکسیز کے لیے دستاویزی تعیناتی علاقائی سلامتی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کسی بھی دائرہ اختیار میں غیر ملکی سپلائی نیٹ ورکس کو ظاہر کرتا رہے گا جو ایران کے فوجی صنعتی کمپلیکس کو سپورٹ کرتا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

پابندیوں کی فہرست میں ایرانی ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر، امان اللہ بیدار، جو کہ محکمہ خزانہ کے مطابق سینٹر کے کمرشل ڈائریکٹر اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بیدر کی فرزان انڈسٹریل انجینئرنگ کمپنی شامل تھی۔

پابندیوں کے دائرے میں آنے والوں میں مراد بوکی نام کا ایک ترک شہری بھی شامل ہے۔ محکمہ خزانہ نے اس پر بیدار کی کمپنی کے لیے کیمیکل اور بائیولوجیکل ڈیٹیکٹر سمیت دفاعی ایپلی کیشنز کے ساتھ مختلف آلات کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں