سعودی عرب کی متنازع یہودی بستیوں میں دوبارہ آباد کاری کے فیصلے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی ریاست کے شمالی مغربی کنارے کے علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کی اجازت دینے کے فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت خارجہ نے اس فیصلے پر مملکت کی طرف سے شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے تمام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن کے شمالی علاقوں میں متنازع یہودی بستیوں میں دوبارہ آباد کاری علاقائی اور بین الاقوامی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے، مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے پیش کردہ عرب امن اقدام پر مبنی سیاسی حل کی راہوں میں رکاوٹ ہے۔ اس طرح کے یک طرفہ اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام کی،سنہ 1967ء کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کے تصورکو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں گے۔

خیال رہے کہ منگل کو اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] نے ایک ترمیمی بل کی منظوری دی تھی جس میں 2005ء میں منظور کردہ ایک قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت شمالی غرب اردن کی کچھ یہودی کالونیوں کو غیرقاونی قرار دے کرانہیں خالی کرایا تھا مگر نئے ترمیمی بل میں ان کالونیوں کو دوبارہ آباد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کےدفتر سے جاری ایک بیان میں اس نئے متنازع قانون کی حمایت کی گئی ہے تاہم دفتر کا کہنا ہے کہ حکومت کا فی الحال ان کالونیوں میں آباد کاری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں