چین کے 250 ملین سیاحوں کے غیر ملکی سیاحتی منزل میں سعودی عرب بھی شامل

سعودی ٹورازم اتھارٹی کا چین کا کامیاب پروموشنل ٹور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین میں سعودی ٹورازم اتھارٹی کا پروموشنل دورہ اس ہفتے کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ اس سے قبل 13 مارچ کو اور برلن ٹورازم فیئر کی شاندار کامیابی کے بعد مملکت عالمی سیاحوں کی ایک نئی سیاحتی منزل بن رہا ہے۔

چین میں سعودی عرب کے پروموشنل ٹور کے دوران سعودی مارکیٹ میں دلچسپی رکھنے والی 100 کمپنیوں اور سیاحتی اداروں نے چین کے ساتھ ساتھ 13 سعودی ٹورازم پارٹنرز نے شرکت کی۔

اس دورے کا مقصد چینیوں کو سعودی سیاحت کی صنعت میں ہونے والی بڑی ترقی سے متعارف کرانا اور ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے مملکت کے بھرپور سیاحتی وسائل کو دکھانا تھا۔ اس کے علاوہ سعودی عربین ایئر لائنز کی پرواز سے سعودی عرب آنے والے چینی سیاحوں کو سفر کا موقع مل سکتا ہے۔ چینی شہری 96 گھنٹے کا ٹرانزٹ ویزا اور ایک رات کے لیے مفت ہوٹل میں رہائش کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔

چین سعودی مارکیٹ کے لیے ایک اہم سیاحتی ذریعہ ہے، کیونکہ توقع کی جاتی ہے کہ چین تین بڑی منڈیوں میں سے ایک بن جائے گا، جو سعودی عرب کے لیے سیاحت کا ایک ذریعہ ہے۔ ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بیجنگ میں غیر ملکی سیاحت مضبوطی سے بحال ہو رہی ہے۔

سنہ 2019 میں بیرون ملک جانے والے چینی باشندوں کی تعداد 155 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ چینی سیاحتی منڈی میں اگلے سالوں میں اوسطاً 5 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جس سے 2020 میں بیرون ملک جانے والے سیاحوں کی تعداد 157 ملین تک پہنچ گئی۔ بین الاقوامی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ صرف چینیوں نے 2021 تک بیرون ملک 429 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

جاپان، تھائی لینڈ، امریکا اور آسٹریلیا چین میں ترجیحی مقامات کی فہرست میں سرفہرست ہیں، جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر مقامات جیسے سنگاپور، انڈونیشیا اور فلپائن چینی سیاحوں کی توج کا مرکزہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں