شام میں بین الاقوامی فوج اور ملیشیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، 19 ہلاکتوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی جنگی طیاروں نے شام میں متعدد مقامات پر بمباری کی کئی کاروائیاں کیں۔ یہ کاروائیاں ممکنہ طور پر شامی اور ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی تنصیبات پر حالیہ تشدد کی کاروائیوں کا ردعمل ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ بین الاقوامی اتحادی افواج کی جانب سے دیر الزور پر کی گئی فضائی بمباری میں مرنے والوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں شامی حکومتی فورسز کے 3 ارکان بھی شامل ہیں۔

جمعے کی شام مسلح ملیشیا نے مشرقی شام میں دیر الزور کے مشرق میں واقع العمر آئل فیلڈ بیس پر تین میزائلوں سے بمباری کی تھی، جس کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بین الاقوامی اتحادی افواج اور ملیشیا کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دونوں طرف ہلاکتیں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے۔

امریکی جنگی طیاروں نے گذشتہ روز دیر الزور کے مشرق میں صحرائے البوکمال میں اور جنوبی شام کے شہر المیادین کے مضافات میں ایک جگہ کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے جن میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور حملے میں دیر الزور شہر میں ہرابیش میں افسران کے رہائش گاہوں کے مقابل قائم ایک اسلحہ گودام کو بھی نشانہ بنایا۔

سیرین آبزرویٹری نے اس سے قبل جمعے کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کونیکو فیلڈ میں بین الاقوامی اتحاد کے ایک اڈے کو دیر الزور میں حکومتی افواج اور ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں سے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکہ کے یہ تازہ حملے ممکنہ طور پر امریکی کنٹریکٹرکی ہلاکت اور پانچ فوجیوں کے زخمی ہونے اور دیر الزور میں اس کے اڈے پر بمباری کا ردعمل ہیں۔

نئے امریکی حملوں کے بعد، شام میں ملیشیا نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی حملے کا جواب دے سکتے ہیں۔

امریکی کانگریس میں مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین، مائیک راجرز نے بھی کہا کہ ان کا ملک شام میں امریکی افواج کو کسی بھی خطرے کا جواب دے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اس حملے کے بعد جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک اور پانچ امریکی فوجی زخمی ہوئے، امریکی فوج کی جانب سے ملیشیاؤں کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز پر اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال کرے گا۔

اس بارے میں نیویارک ٹائمز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شمال مشرقی شام میں اتحادی فوجی اڈے کو جب جنگجوؤں نے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا تو اس کا اہم فضائی دفاعی نظام "مکمل طور پر فعال نہیں تھا"۔

دونوں امریکی حکام نے کہا کہ حملے کی وجوہات اور دفاعی نظام کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں