اسرائیلی وزیراعظم نے بڑے پیمانے پراحتجاج کے بعدمتنازع عدالتی بل مؤخرکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کے سخت منصوبہ پر فیصلہ اگلے ماہ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھیں خدشہ ہے کہ عدالتی اصلاحات کے متنازع بل پراسرائیل میں پیدا ہونے والابدترین قومی بحران ان کے اتحاد کو توڑ سکتا ہے یا تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انھوں نے سوموار کو قوم سے خطاب میں کہا کہ ’’قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت، ہمارے لوگوں میں پھوٹ کو روکنے کی خواہش کے تحت، میں نے بل کی دوسری اور تیسری خواندگی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ بل پر غورپارلیمان (الکنیست) کے اگلے اجلاس تک مؤخرکردیں گے۔یہ اجلاس اپریل کے دوسرے پندرھواڑے میں شروع ہوگا۔

نیتن یاہو کی قیادت میں حکمراں اتحاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کی جماعت یہودی پاور نے بھی پارلیمان کے اگلے اجلاس تک بل کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ تاخیر کسی بھی فریق کو کس حد تک مطمئن کرے گی یا اس بحران کو ٹھنڈا کرے گی۔

دائیں بازو کے اتحاد میں شامل سخت گیر، سلامتی کے وزیر ایتماربن غفیر نے کہا کہ انھوں نے پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں قانون سازی پیش کرنے کے وعدے کے بدلے میں اسے ملتوی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

نیتن یاہو قانونی اصلاحات کے ذریعے عدالتی عمل پر پارلیمنٹ کا کنٹرول سخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ان کے اس منصوبے کے مخالفین اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کررہے ہیں۔اس قانون کے حامیوں بشمول انتہائی دائیں بازو کے فٹ بال شائقین نے جوابی مظاہروں کا وعدہ کیا ہے۔

اسرائیل میں متنازع بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد تل ابیب کے نزدیک واقع بن گورین ہوائی اڈے کو پروازوں کی آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہےاور بندرگاہوں، بینکوں، اسپتالوں اور طبی خدمات کے مراکز کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ قومی مزدور یونین کے سربراہ ہستادروت نے عدالتی اصلاحات کو روکنے کے لیے عام ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے پیر کے روز کہاکہ’’ہمیں ایسے دنوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ بیرونی خطرات پیدا ہو رہے ہیں جبکہ اندرون ملک طوفان اٹھ رہا ہے‘‘۔

نیتن یاہونے ٹویٹر پر ایک بیان میں دونوں فریقوں سے تشدد سے بچنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ اپنے قوم پرست مذہبی اتحاد کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اتوار کوانھوں نے اپنے منصوبوں کی مخالفت کرنے پر وزیر دفاع کو برطرف کردیا تھا۔ان کے اس اقدام کے خلاف اسرائیل میں رات بھر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔

اگرچہ نیتن یاہو اور ان کے ہم نواؤں کا کہنا ہے کہ فعال ججوں پر قابو پانے اور منتخب حکومت اور عدلیہ کے درمیان مناسب توازن قائم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن مخالفین اسے قانونی چیک اینڈ بیلنس کو کمزور کرنے اور اسرائیل کی جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

بن غفیراور وزیرخزانہ بیزلیل سموٹریچ نے نیتن یاہو کے اتحاد کے اندرتناؤ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تبدیلی کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ سموٹریچ نے اپنے حامیوں پرزوردیا کہ وہ احتجاج میں شامل ہوں اور کہا کہ ’’ہم انھیں ہماری آواز اور ہمارے ملک کو چوری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

تاہم اس عمل کی قیادت کرنے والے وزیرانصاف یاریو لیون نے کہا کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے وہ وزیراعظم کے کسی بھی فیصلے کا احترام کریں گے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ایسی صورت حال جس میں ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے،وہ حکومت کے فوری خاتمے اور لیکوڈ کے خاتمے کا ذمہ دار ہوگا۔

دریں اثنا اسرائیلی پارلیمان نے حکومت پر اعتماد کا ووٹ منظورکرلیا ہے۔اس دوران میں تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس( یروشلم) میں ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر احتجاج جاری رکھا ہے۔ان میں سے کئی ایک نیلے اور سفید اسرائیلی جھنڈے لہرارہے تھے۔ یہ جھنڈے مظاہروں کی علامت بن گئے ہیں۔

عدلیہ کے کردار کو محدود کرنے کے لیے اس قانون سازی کے خلاف اسرائیل کی تاریخ میں شاہراہوں پرپہلی مرتبہ بڑے پیمانے پرمظاہرے ہوئے ہیں اور سربراہ ریاست نے پہلی مرتبہ اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔

اسرائیلی صدراسحاق ہرتصوغ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیلی عوام کے اتحاد اور ذمہ داری کی خاطر میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ قانون سازی کا عمل فوری طورپر روک دیں۔

نیتن یاہوخود بدعنوانی کے الزامات پر مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔انھوں نے شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے لیکن اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

اسرائیلی صدرنے عدالتی اصلاحات کے لیے تجاویز کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرے کی نشان دہی کی ہے اور کہاہے کہ اس سے عدالتوں میں تقررپر سیاسی کنٹرول سخت ہوجائے گا اور پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قراردینے کا موقع ملے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں