اسرائیلی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو توہین عدالت کے جواب کے لیے ایک ہفتے کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اتوار کو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو توہین عدالت کے الزامات کا جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ان کے خلاف یہ مقدمہ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔

موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ ان اسرائیل جو ایک اینٹی کرپشن گروپ ہے، نے جمعرات کی رات نیتن یاہو کے ٹیلی ویژن خطاب کے بعد یہ شکایت کی۔

اس خطاب میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ متنازعہ عدالتی اصلاحات کے عمل کو "ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھائیں گے"۔

این جی او نے الزام لگایا ہے کہ نیتن یاہو نے عدالت کے ساتھ ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کسی مقدمے میں ملوث وزیر اعظم کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایسے معاملے میں حصہ لے جس سے مفادات کا تصادم پیدا ہو۔

جمعہ کے روز، اسرائیل کے اٹارنی جنرل غالی بہراف میارا نے بھی کہا کہ وزیر اعظم کا ٹیلی ویژن پر اعلان "اور ان کی طرف سے عدالتی اصلاحات کے عمل میں مداخلت" غیر قانونی ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو پر ایک مقدمے میں رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔

نیتن یاہو کے قومی ٹی وی پر بولنے سے چند گھنٹے قبل، قانون ساز اسمبلی نے وزیر اعظم کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کے لیے سخت شرائط عائد پر مبنی نئی قانون سازی کی جسے حزب اختلاف نے نیتن یاہو کی خدمت کرنے والا "ذاتی قانون" قرار دیا۔

اتوار کو، ملک کی سپریم کورٹ نے نیتن یاہو اور دیگر فریقین کو شکایت کا جواب دینے کے لیے 2 اپریل تک کا وقت دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں