بحران شدید، نیتن یاھو کے عدالتی اصلاحات قانون سے پیچھے ہٹنے کا امکان

اطلاعات ہیں اسرائیل وزیر اعظم مجوزہ قانون معطل کردیں گے، وزیر دفاع کو بحال نہیں کیا جائے گا: العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل میں حکومت کی جانب سے مجوزہ عدالتی اصلاحات کے قانون کے معاملہ پر بحران شدت اختیار کرگیا۔ عدالتی اصلاحات کے خلاف جنوری سے مظاہرے جاری ہیں۔ مجوزہ قانون کو مسترد کرنے پر وزیر دفاع مسٹر گیلنٹ کو برطرف کردیا گیا، جس کے جواب میں مظاہروں کی انتظامیہ نے تل ابیب میں بڑے مظاہرے کا اعلان کردیا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں ’’ العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے پیر کو روز اطلاع دی ہے کہ آج پیر کو ہی نیتن یاھو ایک تقریر کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ اپنے ’’ عدالتی اصلاحات‘‘ کے منصوبے کو معطل کرنے کا اعلان کردیں گے تاکہ اس کے متعلق جامع بات چیت کی جا سکے۔ تاہم اس دوران وہ عدالتی اصلاحات منصوبے کے مخالفت کرنے والے وزیر دفاع مسٹر گیلنٹ کی بحالی کا اعلان نہیں کریں گے۔

یہ معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب کنیسٹ کی آئینی کمیٹی نے جاری ہنگامی آرائی کے باوجود اپنی میٹنگوں کے دوران دوسری اور تیسری خواندگی میں ججوں کی تقرری کے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی عمارت کے سامنے آج بڑے مظاہرے کا اعلان کے تناظر میں کنیسٹ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز کی تعداد کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اس دوران برطرف کئے جانے والے وزیر دفاع مسٹر گیلنٹ بحران کے سکیورٹی پر اثرات کے حوالے سے بحث میں حصہ لینے کے لیے خارجہ امور اور سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کنیسٹ پہنچے۔

دریں اثنا لیکوڈ پارٹی کے وزراء کی اکثریت نے عدالتی اصلاحات کے نام پر قانون میں کی جانے والی ترامیم کو روکنے کی حمایت کا اظہار کردیا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے منصوبے کے متعلق قانون سازی کو "فوری طور پر روک" دے۔ اس منصوبے نے نے ملک کو مہینوں تک تقسیم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں