عدالتی بغاوت: وہ کونسا وزیر ہے جس نے اسرائیل میں آگ بھڑکائی؟

وزیر انصاف نے اعلان کیا کہ وہ عدالتی ترامیم کو فی الحال ملتوی کرنے کی اہمیت کے قائل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت ملک کو درپیش بدترین بحرانوں میں سے ایک میں پھنس گئی ہے۔ عدالتی ترامیم کے مسودے کے پس منظر میں وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو برطرف کرنے کے بعد وزیر انصاف یاریو لیون کی برطرفی کے بھی مطالبات سامنے آنے لگے ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار کے مطابق لیکود پارٹی کے رہنماؤں نے نیتن یاہو سے یاریو لیون کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جو گزشتہ جنوری سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے اور حکومت اور پارلیمنٹ کو زیادہ اختیارات اور آزادی دینے والے قانونی مسودے پر عمل کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔

تاہم لیون نے آج پیر کے روز سڑکوں پر غم و غصہ اور حکومت کو خطرے میں ڈالنے والے مظاہروں کے دباؤں میں آکر اعلان کردیا ہے کہ وہ فی الحال عدالتی ترامیم کو ملتوی کرنے کی اہمیت کے قائل ہیں۔

بغاوت کا انجینئر

تو یہ کون وزیر ہے جسے عدالتی بغاوت کا معمار قرار دیا گیا؟ یہ القدس میں پیدا ہونے والا 54 سالہ شخص ہے جسے نیتن یاہو کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس کی لیکود پارٹی میں ایک تاریخ ہے۔ وہ اپنے یونیورسٹی کے سالوں سے لیکود میں شامل ہوا اور 2003 میں ’’مودیعین‘‘کے علاقے کے لیے پارٹی چیئرمین بن گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس نے عربی زبان میں روانی کی وجہ سے انٹیلی جنس آپریٹس میں بھی کام کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ اس نے کئی وزارتوں کے قلمدان سنبھالے ہیں۔ ان وزارتوں میں داخلی سلامتی کی وزارت بھی شامل تھی۔ وہ نیتن یاہو کی سخت گیر حکومت میں 2022 کے اواخر سے وزیر انصاف مقرر کیا گیا ہے۔

استثنیٰ شق

چار جنوری کو انہوں نے ملک کے عدالتی نظام میں ترمیم کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تاکہ ایک "استثنیٰٰ شق" کو شامل کیا جا سکے جو پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو معطل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس اقدام میں حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے اختیارات کو ججوں کی اتھارٹی پر ترجیح دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ اس وقت کیا گیا جب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا تھا۔

لیون نے اس وقت میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ بلاشبہ جج اہم ہیں لیکن ایک پارلیمنٹ اور ایک حکومت بھی ہے۔ اس وقت جمہوریت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ ہم بیلٹ باکس میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں لیکن ہر مرتبہ غیر منتخب لوگ ہمارے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ جج اب پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو منسوخ نہیں کر سکتا۔

اس مسودے میں وزیر انصاف نے جو تبدیلیاں تجویز کی تھیں ان میں نمایاں ’’ استثنیٰ شق ‘‘ تھی۔ اس شق کے ساتھ پارلیمنٹ کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ سادہ اکثریت سے سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے کو منسوخ کرسکتی ہے۔ اسرائیل میں سپریم کورٹ کنیسٹ کے منظور کردہ کسی قانون کے متعلق اگر یہ سمجھے کہ وہ بنیادی قوانین سے متصادم ہے تو وہ اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اس "استثنیٰ شق" کو ججوں نے مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں