گھڑیوں کے دو اوقات، لبنان میں ہر شعبہ زندگی میں افراتفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان باضابطہ طور پر سوموار کو تو مختلف اوقات میں بیدار ہوا۔ ملک گرمی اور سردی کے دو اوقات میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اوقات کی تقسیم نے عیسائی اور مسلمان کے حوالے سے فرقہ وارانہ رنگ بھی اختیار کرلیا ہے۔

"گھڑی میں پیچھے رکھنے یا آگے بڑھانے" کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے آج پیر کو حکومتی اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔ لبنانی شہری سردیوں اور گرمیوں کے وقت کو اپنانے والے اداروں کے درمیان تقسیم ہوکر الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔

سکولوں کے متعلق شدید پریشانی

مثال کے طور پر بیروت کے ایک کیتھولک سکول میں ٹیچر کے طور پر کام کرنے والی ہنادی کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ اگلے اپریل کے آخر تک ایک ماہ کے لیے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو اپنانے میں تاخیر کے معاملے سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ اس کے سکول نے دن کی روشنی کی بچت والے وقت کو نافذ کردیا ہے۔

دوسری طرف بیروت کے فرانسیسی سکول "اللیسیہ" جہاں اس کے دو بیٹے پڑھتے ہیں نے موسم گرما کے وقت کے نفاذ میں تاخیر کے فیصلے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہنادی کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک ماں کے طور پر اور ایک ٹیچر کے طور پر اسے سکول کے لیے دو الگ اوقات کی تیاری کرنا ہے۔ نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی نے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم اپنانے میں اپریل کے آخر تک تاخیر کا فیصلہ کیا تھا۔ اور وقت تبدیل کرنے کو اس مارچ کے آخر کے بجائے اپریل کے آخر تک ملتوی کردیا تھا۔ معمول کے مطابق مارچ کے آخر میں اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اس فیصلے کی وجہ سے لبنان کے بیشتر پیداواری شعبوں میں بڑی الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں۔

ہنادی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ دو وقتوں کے تنازعات کی وجہ سے اپنے سکول میں اپنے بچوں کے سکول سے ایک گھنٹہ قبل پہنچنا ہوتا ہے۔ ہنامی کو اب بھی امید ہے کہ اس ’’ بے ترتیب‘‘ فیصلے کو تبدیل کیے جانے کے لیے پر امید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس سے زیادہ تر سکولوں میں تعلیمی افراتفری پھیل گئی۔ وزیر تعلیم کا سکولوں، یونیورسٹیوں اور اداروں کو یونیورسل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے مطابق کام کرنے کا پابند کرنے کا فیصلہ یکساں نہیں ہوگا۔ یہ ایک سکول سے دوسرے سکول میں مختلف ہوگا۔

وزیر تعلیم عباس الحلبی نے اعلان کیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے مطلع کیا ہے کہ وہ دن کی روشنی کی بچت کے معاملے پر خصوصی طور پر بات کرنے کے لیے وزرا کونسل کا اجلاس بلا رہے ہیں۔ سکولوں، پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں، سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو وزرا کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے آزادی حاصل ہوگی۔ وزرا کونسل کا فیصلہ کل منگل سے قابل عمل ہوگا۔

بینکوں میں بھی گڑبڑ

"دو مرتبہ کی افراتفری" صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنانی بینکوں تک بھی پھیل گئی ہے۔

بیروت کے الاشرفیہ علاقے کی رہائشی رانیہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ میں نے گزشتہ ہفتے بینک سے اپوائنٹمنٹ لی تھی۔ جو یونیورسل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے مطابق آج صبح 9 بجے کی ہے۔ لیکن اب مجھے فون کرکے معلوم کرنا پڑے گا کہ میری اپوائٹمنٹ کس وقت کے مطابق ہے۔

رانیہ نے بتایا کہ الاشرفیہ کے علاقے کی جس عمارت میں وہ رہتی ہے اسے فیڈ کرنے والے پرائیویٹ جنریٹر کے مالک نے انہیں واٹس ایپ کے ذریعے پیغام میں بتایا کہ جنریٹر کی بجلی یونیورسل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے مطابق ہوگی۔ جبکہ لفٹ کی بجلی زمینی وقت کے مطابق ہوگی۔

رفیق حریری انٹر نیشنل ایئرپورٹ کو بھی ’’دو بار کی افراتفری‘‘ سے نہیں بچایا گیا کیونکہ ہوائی اڈے کے اندر سے پھیلنے والی ایک ویڈیو میں آمد اور روانگی کے اوقات کے تعین میں دو اوقات کو اپناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایئرپورٹ پر پروازیں

الفنار کے علاقے کی رہائشی ڈینس نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا ہے کہ ایئر لائن نے ہفتے کی شام اس کے بھائی کو مطلع کیا کہ لبنان میں وقت کی افراتفری کی وجہ سے پیر کی صبح کویت کے لیے اس کے سفر کا وقت ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

کھیل کی سرگرمیاں

جہاں تک ماؤنٹ لبنان کے ایک سپورٹس کلب میں مارشل آرٹس کے ٹرینر غسان کا تعلق ہے انہوں نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا ہے یہ ہفتہ کھیلوں کی افراتفری کا ایک ہفتہ ہو گا کیونکہ زیادہ تر تقرری پہلے سے میقاتی کے کے فیصلے سے پہلے طے کی گئی تھیں۔ افراتفری کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب "ریادی" کلب نے "الحکمہ" کے ساتھ اپنے میچ کے وقت کا اعلان اس وقت کے مطابق کیا جو موسم سرما کے وقت کو برقرار رکھ کر لاگو کیا گیا ہے۔ مقابلہ کرنے والے کلب نے اعلان کیا کہ میچ ایک مختلف وقت کے مطابق کھیلا جاتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جو موسم گرما کے وقت پر انحصار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں