امریکا مہلک حملوں کے باوجود شامی مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا کہ امریکا شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی طرف سے گذشتہ ہفتے امریکی فوج پر مہلک حملوں کے باوجود داعش کی باقیات کے خلاف اپنا آٹھ سالہ مشن جاری رکھے گا۔

ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے 23 مارچ کو شام میں امریکی اڈے پر ڈرون حملہ کیا، جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک، دوسرا زخمی اور پانچ امریکی فوجی زخمی ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد امریکی جانب سے فضائی حملوں اور فائرنگ کی کاروائیوں میں شدت آئی جن میں تین شامی فوجی، حکومت کی حامی ملیشیا میں شامل 11 شامی اور پانچ غیر ملکی جنگجو مارے گئے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ وہ پچھلے 36 گھنٹوں کے دوران کسی بھی اور حملے سے آگاہ نہیں ہیں لیکن انہوں نے خبردار کیا، "ہم چوکس ہیں۔"

کربی نے جمعہ کے روز صدر جو بائیڈن کے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ امریکا اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال کرے گا۔

کربی نے کہا کہ "گذشتہ چند دنوں میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے میں شام میں امریکا کے لائحہ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،"
"ہم ان عسکریت پسند گروپوں کے ان حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔"

شام کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اہداف کے بارے غلط بیانی کی ہے اور اپنی سرزمین سے "امریکی قبضے کو ختم کرنے" کا وعدہ کیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکی افواج پر "شہری مقامات" کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

شام کے 12 سالہ تنازعے کے دوران ایران شامی صدر بشار الاسد کا بڑا حمایتی رہا ہے۔

ایران کی پراکسی ملیشیا، بشمول لبنانی گروپ حزب اللہ اور تہران کے حامی عراقی گروپ، مشرقی، جنوبی اور شمالی شام کے وسیع علاقوں اور دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں اپنا تسلط رکھتے ہیں۔

شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر مشرق میں ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق، حملوں کے تازہ ترین سلسلے سے پہلے، 2021 کے آغاز سے شام میں امریکی فوجیوں پر ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے تقریباً 78 حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں