سعودی عرب شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل

سعودی عرب اور چین کے درمیان فروغ پذیر تعلقات کے جلو میں مملکت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اہم پیش رفت قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی کابینہ نے آج بدھ کو شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے فیصلے کی منظوری دے دی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ریاض چین کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری قائم کر رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی’ایس پی اے‘ نے کہا ہے کہ مملکت نے سعودی عرب کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مذاکراتی پارٹنر کا درجہ دینے کے حوالے سے ایک یادداشت پر اتفاق کیا۔

یہ تنظیم یوریشیا کے ایک بڑے رقبے پر موجود ممالک کی سیاسی اور سکیورٹی یونین ہے جس میں چین، بھارت اور روس شامل ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد 2001 میں روس، چین اور وسطی ایشیا کے سابق سوویت یونین کے ممالک کے درمیان رکھی گئی تھی۔ اس میں بھارت اور پاکستان کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی گئی جو خطے میں مغربی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

ایران نے بھی گزشتہ سال تنظیم کی مکمل رکنیت کی دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔

ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ الریاض کے دوران اس تنظیم میں سعودی عرب کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ درمیانی مدت میں مملکت کو مکمل رکنیت دینے سے پہلے ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ پہلا قدم ہوگا۔

یہ فیصلہ سعودی آرامکو کی جانب سے منگل کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس نے شمال مشرقی چین میں منصوبہ بند مشترکہ منصوبے میں ایک نجی پیٹرو کیمیکل گروپ میں حصص حاصل کرکے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں کئی ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں