اسرائیل:فلسطینیوں پرحملہ کرنے والے دویہودی آباد کاروں پر'دہشت گردی' کی فردِجُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں ایک عدالت نے جمعرات کے روز دو یہودی آباد کاروں پر مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں فلسطینیوں پر حملے کے الزام میں 'دہشت گردی کی کارروائی' کی فردِ جرم عاید کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں عام طور پراس طرح کی غیرمعمولی فردِجُرم فلسطینیوں کے لیے مخصوص ہے۔یہودی آبادکاروں کے ایک گروپ نے مغربی کنارے میں واقع گاؤں حوارہ میں ایک فلسطینی خاندان پر ان کی کار میں حملہ کیا تھا۔اسی فلسطینی گاؤں میں گذشتہ ماہ تشدد کے واقعات کے دوران میں دویہودی آباد کاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

26 فروری کو فائرنگ کے اس واقعہ کے ردعمل میں درجنوں اسرائیلی آباد کاروں نے حوارہ پردھاوا بول دیا تھا اور وہاں درجنوں گھروں اور کاروں کو آگ لگا دی تھی جبکہ اسرائیلی وزیرخزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اس گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہیے۔

اسرائیل کی سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کی فردِ جرم کے مطابق یہ دونوں نوجوان ان آٹھ سے 10 آباد کاروں کے گروپ میں شامل تھے جو 6 مارچ کو یہودیوں کی تعطیلات کے دوران میں حوارہ میں ایک سُپرمارکیٹ کی پارکنگ کی طرف گئے تھے۔

یہودی آبادکارکلہاڑیوں، ہتھوڑے، پتھروں اور کالی مرچ کے اسپرے سے لیس تھے،انھیں دو گاڑیوں سے نکلتے دیکھ کرخریدارسپر مارکیٹ میں داخل ہو گئے اورانھوں نے اپنے دفاع کے لیے اس کے دھاتی شٹر بند کر دیے تھے۔

ایک فلسطینی جوڑا اور ان کی چھوٹی بیٹی اپنی کار ہی میں موجود رہے تھے۔اس دوران میں ایک آباد کار نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا اور دوسرے نے کلہاڑی کے وارکرتے ہوئے اس کی دروازے توڑ دیے اور فلسطینی مرد پر حملہ کیا تھا۔

اس سے اس فلسطینی کے سر،کندھے اور بازو پر چوٹیں آئی تھیں جبکہ حملہ آوروں نے کارپرکالی مرچ کا اسپرے کیا تھااور دوسرے ملزمان نے قریب کھڑی دو دیگر کاروں میں توڑ پھوڑ کی تھی۔بالآخریہ خاندان وہاں سے جانیں بچاکرنکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن آبادکاروں نے ان پرپتھر پھینکے تھےجس سے فلسطینی کاسر پھٹ گیا تھا۔

ان دونوں یہودی آبادکاروں پر’’دہشت گردی کی سنگین کارروائی‘‘اور’’نسلی بنیادوں پرنقصان پہنچانے‘‘ کا الزام عاید کیا گیا تھا۔استغاثہ نے ان پرالزام عاید کیا تھا کہ ان کا ’’نظریاتی یا قوم پرستانہ مقصد‘‘ تھا۔

اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس شین بیت کے مطابق 13 مارچ کو گرفتارکیے گئے ملزمان کا تعلق ایک پرتشدد گروہ سے ہے جو فلسطینیوں کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی مزاحمت سے نمٹنے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو کمزورکرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

شین بیت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اس طرح کے قوم پرستی پرمبنی جرائم اسرائیل کی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ ہیں، بدامنی کا باعث بنتے ہیں اور مغربی کنارے کے مکینوں کے معمولات کو نقصان پہنچاتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں