برطرف اسرائیلی وزیر دفاع اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں: ذرائع کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع نے وزیر اعظم نیتن یاھو کے عدالتی اصلاحات کے منصوبہ کی مخالفت کی تو انہیں برطرف کردیا گیا تھا۔ تاہم ان کی برطرفی کے بعد اسرائیل میں آئینی بحران شدید ہوگیا۔ اسی حوالے سے دو ذرائع نے ’’رائٹرز‘‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ اب بھی اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔

صورتحال سے آگاہ دو ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قومی مذہبی حکومتی اتحاد میں حصہ لینے والی شاس پارٹی کے رہنما آرییہ درعی انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایک ذریعہ کے مطابق درعی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دیرینہ اتحادی ہیں، وہ حکومت کے مستحکم ہونے اور گھریلو غصے کو پرسکون کرنے کے منتظر ہیں۔

دوسرے ذریعہ نے وضاحت کی کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی دفاعی افواج کے عہدیداران مسٹر گیلنٹ کی برطرفی اور خطے کے لیے ایک انتہائی حساس وقت کے دوران اسرائیل میں ہونے والے ہنگاموں سے پریشان تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مسٹر گیلنٹ کو ابھی تک نیتن یاہو کی جانب سے مواخذے کا باضابطہ خط موصول نہیں ہوا ہے۔ نیتن یاھو کو عدالتی اصلاحات کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے غیر معمولی عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسٹر گیلنٹ کی برطرفی اور اس کے بعد پھیلنے والے اشتعال نے اسرائیل میں بہت سے لوگوں کو خدشات میں مبتلا کردیا تھا کہ یہ عدالتی اصلاحات فوج اور سماج میں بھی گہری تقسیم کردیں گی اور اس سے اسرائیل کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں