شام میں امریکا کے جوابی فضائی حملے میں 8 ایرانی حمایت یافتہ جنگجو مارے گئے: پینٹاگون

ایرانی حمایت یافتہ ملیشا کے ڈرون اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں مزید چھ امریکی فوجیوں میں دماغی چوٹوں (ٹی بی آئی) کی تشخیص ہوئی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پینٹاگون نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ شام میں امریکی فضائی حملہ جس میں گزشتہ ہفتے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو نشانہ بنایا گیا تھا، میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پینٹاگون کے پریس سکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے جنگجو ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب سے وابستہ تھے لیکن وہ ایرانی نہیں تھے۔

رائڈر نے بتایا کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشا کے ڈرون اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں مزید چھ امریکی فوجیوں میں دماغی چوٹوں (ٹی بی آئی) کی تشخیص ہوئی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور امریکی فوج کے درمیان گزشتہ جمعرات کو ایک امریکی اڈے پر ابتدائی ڈرون حملے کے بعد، جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے تھے، حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس واقعے کے بعد سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 24 اور 25 مارچ کو مزید تین حملوں میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ایک اہم غیر سرکاری گروپ نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں کم از کم 19 جنگجو مارے گئے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے ایک سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو دیر گئے امریکی فوج کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف حملوں کے دوسرے دور کو روکنے کا حکم دیا تھا۔

اس بارے میں پوچھے جانے پر رائیڈر نے امریکی ردعمل کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے کارروائی کی، ہم نے سپاہ پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشن کی نگران قدس فورس کے دو اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ متناسب کارروائی تھی، اور یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کارروائی تھی تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکی افواج پر بلاامتیاز حملہ نہیں کیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ "ہم اپنی پسند کے وقت اور جگہ پر مناسب کارروائی کرتے رہیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری افواج محفوظ ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں