رمضان المبارک کا دوسرا جمعہ، مسجد حرام میں 15 لاکھ افراد نے نماز اد ا کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماہ صیام کے دوسرے جمعہ مسجد حرام میں نمازیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا اور لگ بھگ ڈیڑھ ملین افراد نے مسجد حرام میں ایمان کے حفاظت اور صحت مند عقیدت والے ماحول میں نماز جمعہ ادا کی۔ حرم کی راہداریوں اور ہالز اور صحنوں میں انتظامیہ نے مربوط خدمات کانظام قائم کر رکھا تھا۔ ’’ صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی‘‘ کی جانب سے بہترین انتظامات کی بدولت لاکھوں نمازیوں کے ہجوم کو کہیں بھی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔

’’صدارت عامہ‘‘ کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے ماہ مبارک کے دوسرے جمعہ کے لیے آپریشنل منصوبے کی کامیابی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ تمام ایجنسیوں کے تیار کردہ منظرنامے اور منصوبے مد نظر رکھ کر مکمل افرادی قوت کو خدمت کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ معتمرین اور نمازی حضرات آسانی سے پر سکون ماحول میں اپنی عبادات کی ادائیگی کر سکیں۔ جمعہ کو فجر سے ہی بڑی تعداد میں لوگ مسجد حرام میں پہنچ گئے تھے۔ نمازیوں کی کثافت کے باوجود کراؤڈ ڈپارٹمنٹ کی محتاط تنظیم نے حفاظتی نظام کے ساتھ مل کر آپریشنل پلان مرتب کیا اور بڑی کامیابی حاصل کی۔

62
62

المسجد الحرام کی راہداری اور فرش، اس کے تہہ خانے، چھتیں اور صحن نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ نمازیوں کی صفیں مسجد کے اطراف کی سڑکوں، چوکوں اور محلوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اعلی ترین بین الاقوامی خدمات کے معیارات کے مطابق ایک روح پرور ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ بیت اللہ شریف کی مسجد میں بہترین صفائی اور ستھرائی کا بھی انتظام تھا۔ ماحول کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔ جراثیم کش لیکوڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔

شیخ السدیس نے بتایا کہ اس دوران کہیں بھی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام دروازوں پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ہجوم کو مانیٹر کیا گیا اور اس کے اثرات کی پیمائش کے مطابق مسجد کے تہ خانے میں بھیڑ کو کم کیا گیا۔ ہجوم کو منظم کرنے کے طریقوں پر عمل کیا گیا۔ تمام نمازیوں کو باحفاظت ان کی منزل تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے تیاری کی گئی تھی۔ المسجد الحرام میں کام کرنے والے تمام فریقوں نے آپس میں موثر رابطہ برقرار رکھا اور مسلسل تال میل کے ذریعے سے ہجوم کو منظم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں