41 برس قبل لبنان میں لاپتہ ایرانی افسر کے قتل کا باضابطہ اعلان کردیا گیا

احمد متوسلیان 5 جولائی 1982 کو لاپتہ ہوئے، پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے اہل خانہ سے ملاقات میں موت کی تصدیق کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں ایرانی فوجی افسر احمد متوسلیان کے لاپتہ ہونے کے 41 برس بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں کے اہل خانہ سے نوروز کی تقریبات کے موقع پر ایک ملاقات میں احمد متوسلیان کے قتل کی بھی تصدیق کردی۔

ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی نیوز ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل حسین سلامی نے احمد متوسلیان، سعید، محمد طوقانی اور مہدی ذاکر حسینی کے اہل خانہ سے نوروز کے موقع پر ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات میں انہوں نے احمد متوسلیان جن کی موت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا کے قتل کی بھی تصدیق کردی۔ میجر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ آج ایران میں سلامتی، امن، ترقی اور طاقت ان کی مرہون منت ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ احمد متوسلیان القدس کو فتح کرنے کی راہ کا پہلا ایرانی شہید ہے۔ آج مزاحمتی محاذ کی فتوحات ان کے شروع کیے گئے اسی راستے کا نتیجہ ہیں جسے انہوں نے القدس کو آزاد کرنے اور فتح کرنے کے لیے کھولا تھا۔

احمد متوسلیان ان چار ایرانیوں میں سے ایک تھے جو 5 جولائی 1982 کو اس وقت لبنان میں لاپتہ ہو گئے تھے جب وہ سیاسی اور فوجی رہنماؤں کے ایک اعلیٰ سفارتی گروپ کے حصے کے طور پر شام آئے تھے اور ایران نواز گروپوں کی حمایت کے لیے لبنان چلے گئے تھے۔ جس گاڑی میں احمد متوسلیان جار ہے تھے اس میں ان کے ساتھ ایک گروپ تھا ۔ یہ گروپ بیروت جاتے ہوئے ایک چوکی پر غائب ہوگیا تھا۔

ایران نے ’’الکتائب‘‘ پارٹی سے وابستہ ایک گروپ پر اسرائیل کی مدد سے انہیں اغوا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غائب ہونے والے 4 ایرانیوں کے متعلق کوئی علم نہیں رکھتا۔

ایران نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) سے اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تاریخ کے بعد سے ایران نے ان چار افراد کو لاپتہ افراد کے طور پر شمار کیا تھا۔ ایران نے احمد متوسلیان اور دیگر تین ساتھیوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی تھی۔ ایرانی حلقوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان لاپتہ ہونے والے سفارت کاروں کو ان کے اغوا کے فوراً بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں