امارات کا مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی بنک کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے مغربی ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی بنک ’ایم ٹی ایس‘ کا مملکت میں کام کے لیے جاری کردہ لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ عن قریب روسی "MTS" بینک کی شاخ کا لائسنس ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایک سال قبل ہی اس بینک کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ رواں سال فروری میں امریکا، برطانیہ اور بعض دوسرے ملکوں نے یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کے ’ایم ٹی ایس‘ بنک پر پابندیاں عاید کر دی تھیں۔

اماراتی مرکزی بینک نے کہا کہ ابوظبی میں ایم ٹی ایس برانچ اس فیصلے کی تاریخ سے چھ ماہ سے زیادہ کی مدت کے اندر مرکزی بینک کی نگرانی میں اپنا کاروبار ختم کر دے گی اور برانچ بند کر دی جائے گی۔

مرکزی بینک کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ فیصلہ نئے ایم ٹی ایس بینک کی حیثیت کے حوالے سے دستیاب اختیارات کی جانچ پڑتال اور درجہ بندی کے بعد بینک سے منسلک جرمانے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔"

"سنٹرل بنک" نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "کاروباری لیکویڈیشن کی مدت کے دوران برانچ کو نئے اکاؤنٹس کھولنے اور لین دین کرنے سے روکا جائے گا۔ یہ بنک ان 200 روسی اداروں میں شامل ہے جن پر یوکرین جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد مغربی ممالک کی طرف سے پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے گزشتہ فروری میں اپنے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ماسکو پر عائد مغربی پابندیوں کے باوجود روسی ایم ٹی ایس بینک کو لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی کیونکہ یہ بینک خود پابندیوں کا شکار نہیں تھا، لیکن آخر کار اسی مہینے امریکی محکمہ خزانہ نے بینک پر پابندیاں عائد کیں جس کے بعد امارات نے بھی روسی بنک کا لائسنس منسوخ کرنے پر غور شروع کیا تھا۔

چوبیس فروری کو امارات کے مرکزی بینک نے کہا تھا کہ وہ روسی "MTS" بینک کی نئی حیثیت کے حوالے سے دستیاب اختیارات پر غور کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں