بحرین میں سرمایہ کاروں کے لیے گولڈن لائسنس متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بحرین نے پیر کے روز کہا کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کے بڑے منصوبے لانے والی کمپنیوں کے لیے ایک نیا "گولڈن لائسنس" متعارف کروا رہا ہے۔

گولڈن لائسنس مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کو دیا جائے گا اور اس کے فوائد میں ترجیحی طور پر زمین، انفراسٹرکچر اور خدمات، سرکاری خدمات تک آسان رسائی اور سرکاری ترقیاتی فنڈز سے معاونت شامل ہیں۔

حکومت کے میڈیا آفس نے کہا کہ "بڑی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک پراجیکٹس والی کمپنیاں جو بحرین میں 500 سے زیادہ ملازمتیں پیدا کریں گی، یا جن کی سرمایہ کاری کی مالیت $50 ملین سے زیادہ ہے، وہ لائسنس کے لیے اہل ہوں گی۔"

بحرین کے بڑے خلیجی ہمسائے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی پچھلے کچھ برسوں میں ٹیلنٹ اور بیرونی سرمایہ کاری کے لئے اپنے ویزا سسٹم اور قوانین میں اصلاحات کر رہے ہیں۔

بحرین کا یہ اقدام اقتصادی بحالی کے منصوبے کا حصہ ہے جو اکتوبر 2021 میں ترقی اور روزگار کی تخلیق کو فروغ دینے کے لیےشروع کیا گیا تھا۔

بحرین، خلیج کی سب سے زیادہ مقروض ریاستوں میں سے ایک رہا ہے اور اسے 2018 میں امیر پڑوسیوں نے 10 بلین ڈالر کے امدادی پیکج کے ساتھ ضمانت دی تھی جس کا مقصد 2024 تک مالی توازن حاصل کرنا تھا۔

بحرین کی معیشت کو تیل کی بلند قیمتوں سے کافی مدد ملی اور 2022 میں حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2013 کے بعد بلند ترین شرح ہے۔

2022 میں تیل کی آمدنی کے علاوہ جی ڈی پی کی شرح نمو 6.2 فیصد تھی جو کہ بحالی کے منصوبے کے مقرر کردہ 5 فیصد ہدف سے زیادہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں