بیروت: برطانوی خاتون صحافی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا شامی گرفتار

ملزم کا خاتون پر دھاوا بولنے ، کپڑے پھاڑ دینے اور اسے مارنے پیٹنے کا اعتراف، ایسے 30 حملے کرچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی سیکورٹی نے شام کے ایک شہری کو گرفتار کرلیا جس نے گزشتہ ہفتے بیروت میں ایک برطانوی خاتون صحافی کو ہراساں کیا تھا اور اس کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی تھی۔

پیر کو "اندرونی سیکورٹی فورسز" کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس حملے کی اطلاع خاتون صحافی نے فورسز کو دی تھی ۔ گرفتار شامی شہری ’’ م، م ‘‘ نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

’’م، م‘‘ نے 28 مارچ کی شام خاتون صحافی کو اس وقت ہراساں کیا جب اس نے اسے وسطی بیروت کے ایک علاقے میں سمندر کی طرف چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر دھاوا بول دیا۔ اسکے کپڑے پھاڑ دیے۔ اسے مارا پیٹاا وراس کا گلا گھونٹنے کی کوشش بھی کی اور پھر وہاں سے فرار ہو گیا۔ رات کے اندھیرے میں وہ نامعلوم منزل کی طرف چلا گیا۔ جب راہگیر اس جگہ پہنچے تو ان میں سے کچھ نے خاتون صحافی کو ہسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹروں نے خاتون کا علاج شروع کردیا۔

سیکیورٹی فورسز نے حملے کی جگہ کی چھان بین کی اور گزشتہ اتوار کو بحیرہ بیروت کے قریب واقع علاقے "الکرنتینا" میں "م، م" کے رہنے کی جگہ کا تعین کیا اور گھنٹوں اس کی نگرانی کی اور پھر اس کو حراست میں لے لیا۔ حملہ کرتے وقت ’’م ، م‘‘ جس سائیکل پر سوار تھا اسے بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔ ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق حملہ آور ’’ م، م‘‘ 27 برس قبل شام میں پیدا ہوا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران اس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے خاتون صحافی پر واٹر فرنٹ ایریا میں ’’کڈز منڈو‘‘ عمارت کے سامنے حملہ کیا اور اس کی عصمت دری کی کوشش کی تھی۔ اس عمارت کو بچوں کے لیے تفریحی پارک بھی کہا جاتا ہے۔ ملزم نے بتایا کہ وہ 8 ماہ سے لڑکیوں بالخصوص غیر ملکی خواتین کا پیچھا کر رہا ہے۔ اور بعض اوقات وہ ان خواتین کے کپڑے اتار کر اخلاق کے منافی حرکتیں بھی کرتا رہا ہے۔ اس نے 30 سے زیادہ مرتبہ ایسی کارروائیاں کی ہیں۔ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے اس کی تصویر وائرل کی اور اس کے حملوں سے متاثر ہونے والے دیگر افراد سے بھی رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں