مسجد اقصیٰ میں یہودی تہوار پر ’قربانی‘ کی منصوبہ بندی کرنے والا اسرائیلی زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی پولیس نے ایک انتہا پسند اسرائیلی مہم جو کو حراست میں لے لیا جس نے الحرم الشریف میں یہودیوں کے تہوار عید فصح کے لیے قربانی دینے کا منصوبہ بنایا تھا اور یہودی برادری میں اس کے لیے مہم چلائی تھی - یہ وہ مقام ہے جس میں مسجد اقصیٰ اور قبہ الصخرا واقع ہیں۔

یہ مقام جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔ یہاں اکثر مذہبی تعطیلات کے دوران تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں۔

اس سال مسلمانوں کے لیےرمضان کا مقدس مہینہ اور یہودیوں کا عید فصح کا تہوار ایک ہی وقت میں آئے ہیں۔ اسرائیلی حکام ممکنہ تصادم کی روک تھام کے لیے اس مقام پر ہونے والی اشتعال انگیز فصح کی قربانی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے مہم چلانے والے رافیل مورس کی لی گئی فون فوٹیج نشر کی، جس میں اسے سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے اپنی گاڑی میں گھسیٹتے ہوئے دکھایا۔

ویڈیو میں، ایک افسر کا کہنا ہے کہ مورس پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کا شبہ ہے اور اس کے گھر کی تلاشی لی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو مستند ہے۔

1967 کی جنگ کے بعد سے یہاں ایک جمود کا انتظام ہے جو مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر غیر مسلموں کو عبادت سے روکتا ہے اور انہیں صرف مخصوص مقامات پر آنے جانے کی اجازت دیتا ہے۔

اس کے باوجود کچھ انتہا پسند مذہبی گروہ ساتھی کارکنوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بدھ کو پاس اوور یا عید فصح کے تہوار کے آغاز پر اس مقام پر قربانی کے لیے بھیڑ کے بچے لے کر آئیں۔

ٹیمپل ماؤنٹ ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ یہ ایک یہودی تحریک ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے احاطے کے اندر ایک یہودی معبد بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں