ڈاکٹر العصیبی کے قتل کیخلاف 1948 کے فلسطینی علاقوں میں ہڑتال کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطینی ڈاکٹر محمد العصیبی کے قتل کے بعد دو دن کی کشیدگی کے بعد گرین لائن کے اندر نقب کے قصبے ’’حورہ‘‘ میں الاقصیٰ سکوائر میں اور گوش عتسیون میں تین اسرائیلی فوجیوں پر گاڑی چڑھائے جانے کے بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے تمام علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ بالخصوص القدس اور قبلہ اول اور حرم قدسی کے علاقے میں سکیورٹی زیادہ سے زیادہ کردی گئی ہے۔ پولیس فورس اور سرحدی گارڈ کے اہلکاروں کو قصبوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔

1948 کے فلسطینی علاقوں میں 26 سالہ ڈاکٹر محمد العصیبی کے قتل کے بعد فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے زیر نگین جانے والے فلسطینی قصبوں میں مکمل ہڑتال اور مظاہرے کا اعلان کردیا ہے۔

شام پر بمباری کے پریشان کن اثرات

اسرائیلی سکیورٹی سروسز نے فوجیوں کی شرکت کے ساتھ ڈاکٹر العصیبی کے قتل کے اثرات سے نمٹنے کے طریقوں اور اسرائیلی قصبوں اور چوکیوں پر فلسطینیوں کی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہوجانے کے منظر نامے اور القدس کی کشیدہ صورتحال کے جواب میں ماہ صیام کے دوران تبادلہ خیال کیا۔

صہیونی سکیورٹی سروسز نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس عید ’’ الفصح‘‘ کی چھٹی کے دوران آپریشنز کی منصوبہ بندی کے متعلق پہلے سے انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں۔ یہ کارروائیاں اس ہفتے کے بدھ کو شروع ہوکر سات روز تک جاری رہنا تھیں۔

ایک اسرائیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ تمام شعبوں میں سکیورٹی کے تناؤ کے لیے سب سے حساس دور تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ تناؤ یہودی تہوار عید ’’ فصح‘‘ کی چھٹی سے قبل ہی بڑھ جائے۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کو بند کر کے رکھ دیا ہے۔ چھٹی کے دوران فلسطینیوں کا محاصرہ بڑھا دیا گیا ہے اور ان پر پابندیوں کو مزید سخت کردیا ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک فوجی مشیر کی ہلاکت کے بعد القدس اور مغربی کنارے میں کشیدگی پرشام میں حالیہ بمباری کے اثرات کے متعلق تشویش کا اظہار کیاہے۔ یاد رہے اس میہنے کے آغاز سے شام میں اسرائیل نے چھ حملے کیے ہیں۔

نیتن یاھو کی دھمکیوں سے تناؤ میں اضافہ

وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے دوران دھمکیاں اور وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ شام پر بمباری جاری رکھے گی۔ انہوں نے فلسطینی ڈاکٹر محمد العصیبی کے قتل کے متعلق پولیس کے ورژن کی بھی حمایت کی ۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اسرائیل کی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کی حمایت کرنے والی حکومتوں کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں اپنے دشمنوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ کوئی غلطی نہ کریں اور ہمارے ساتھ کوئی تجربہ نہ کریں۔ اسرائیل میں اندرونی تنازع نے ہمارے عزم، ہماری طاقت، اور دشمنوں کے خلاف کارروائی کی ہماری صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ کبھی ایسا ہوگا۔

اس روز جس دن ڈاکٹر العصیبی کے قتل کے خلاف گرین لائن کے اندر مختلف عرب آبادیوں میں مظاہرے ہوئے تو نیتن یاھو نے اس موقع پر بھی پولیس کی حمایت کی اور کہا میں اسرائیلی پولیس کی مکمل حمایت کرتا ہوں جس نے دہشت گردی کی کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے مسجد اقصی کے اندر شوٹنگ آپریشن کیا۔

1948ء کے فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی عام ہڑتال اس وقت ہوئی جب تمام شواہد سامنے آئے کہ ڈاکٹر العصیبی کو بغیر کسی گناہ کے 20 گولیاں مار کر اس وقت شہید کر دیا جب وہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لیے اپنے راستے پر جا رہے تھے۔ ڈاکٹر العصیبی نے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو ایک فلسطینی خاتون پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا تو وہ خطرے کی پروا نہ کرتے ہوئے خاتون کی مدد کے لیے پہنچ گئے تھے۔

دوسری طرف پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈاکٹر العصیبی نے ایک پولیس اہلکار پر حملہ کیا اور اس کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی تھی۔ ڈاکٹر العصیبی کے اہل خانہ نے علاقے کے سکیورٹی کیمروں کے مناظر دکھانے کام مطالبہ کیا تو پولیس نے جواب دیا کہ علاقے میں لگے تمام سکیورٹی کیمروں کی جانچ پڑتال کر لی گئی ہے۔ اس واقعہ کی ریکارڈنگ کسی کیمرے میں نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر العصیبی کے اہل خانہ اور عرب افراد نے اسرائیلی پولیس کے اس دعویٰ کو بذات خود جرم کا ثبوت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر العصیبی کو بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔

اعلی فالو اپ کمیٹی برائے عرب عوام نے بھی پولیس کے موقف کو مسترد کر دیا اور اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس میں عام ہڑتال کی منظوری دے دی۔ کمیٹی نے مختلف عرب قصبوں میں دھرنا دینے کی اپیل کی ہے۔

1948 کے علاقے کے فلسطینیوں کے امور کے لیے اعلیٰ فالو اپ کمیٹی کے سربراہ محمد براکا نے کہا ہے کہ یہ جرم مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصی میں فلسطینیوں کی موجودگی کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا ہی ایک حصہ ہے۔

ڈاکٹر العصیبی کے قتل کا جواز

یاد رہے اسرائیلی حکومت نے اتوار کے اہم اجلاس میں وزیر سلامتی ایتمار بن گویر کے سربراہی میں ’’نیشنل گارڈ‘‘ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جبکہ اسی اجلاس میں جیکب شبتائی نے بن گویر کے اجلاس میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا اور نیشنل گارڈ کو مسترد کر دیا تھا لیکن بن گویر نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ اس بنا پر جیکب شبتائی اور بن گویر میں فاصلے بڑھتے دکھائی دیے لیکن حیرت کی بات تھی کہ فلسطینی ڈاکٹر العصیبی کے قتل کے جواز پر دونوں نے اتفاق کیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’’میزان‘‘ نے ڈاکٹر العصیبی کے قتل کو ماورائے عدالت قتل پر مبنی اسرائیل کی منظم پالیسی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں