اسرائیلی فوج کی راکٹوں کے جواب میں لبنان پرگولہ باری،یونیفیل کاتحمل سے کام لینے پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز لبنان سے داغے گئے راکٹوں کو کسی ہدف پرگرنے سے پہلے ہی ناکارہ بنادیا ہے اور اس کے ردعمل میں لبنان کے جنوبی علاقے میں مختلف اہداف کوتوپ خانے سے نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان کی جانب سے 30 راکٹ داغے گئے ہیں۔ان میں سے نصف کو روک لیا گیا جبکہ پانچ اسرائیلی علاقوں میں گرے ہیں۔اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم تین سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے کی ذمہ دار لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نہیں بلکہ لبنان میں موجود فلسطینی دھڑے ہیں۔

جمعرات کو یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ لبنان کے دورے پر تھے۔ لبنانی فوج یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پرکوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفیل) نے ایک تحریری بیان میں صورت حال کو 'انتہائی سنگین' قراردیا ہے اور فریقین سے تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیفیل کے سربراہ ارولڈو لازارو طرفین کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اسرائیل کے نشریاتی اداروں نے شمالی قصبے شلومی کے اوپر دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے اور سرکاری نشریاتی ادارے کان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی نے حیفاسمیت شمالی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔

لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ کے دوسرے حملے کے فوری بعد جنوبی لبنان میں توپ خانے سے گولہ باری کی ہے اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

لبنان کے سرکاری میڈیا نے بھی جنوبی علاقے میں اسرائیلی فوج کے حملے کی اطلاع دی ہے لیکن اس سے کسی جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اسرائیلی فوج نے لبنان سے راکٹ حملے کے جواب میں توپ خانے سے گولہ باری ایسے وقت میں کی ہے جب اسلام کے تیسرے مقدس مقام مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اورفلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کشیدگی پائی جارہی ہےاور اس کے ردعمل میں علاقے بھرسے جوابی کارروائی کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان سے اسرائیلی علاقے میں داغے گئے راکٹ کو کامیابی کے ساتھ ناکارہ بنادیاگیا ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شمالی شہروں شلومی اور موشیف بیتزیت میں انتباہی سائرن بج اٹھے تھے۔

جنوبی لبنان سےاسرائیل کی طرف یہ دوسرا راکٹ حملہ تھا۔دو سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس دوسرے راکٹ حملے سے چندے قبل پہلا راکٹ حملہ بھی ناکام بنادیا تھا۔لبنان کے جنوبی علاقے کے مکینوں نے دوپہربھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔لبنانی فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ کیا ہے اورنہ کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں مسلسل تازہ معلومات حاصل کر رہے ہیں اور وہ سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ مل کرصورت حال کا جائزہ لیں گے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے اندر بدھ کو علی الصباح اور شام کو اسرائیلی پولیس کی فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تشدد کے نتیجے میں غزہ سے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں جس سے کشیدگی میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

دریں اثناء لبنان کی ایران نواز مسلح تحریک حزب اللہ نے خبردار کیا ہےکہ وہ مسجد اقصیٰ میں جھڑپوں کے بعد فلسطینی گروہوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی۔

تنظیم نے کہا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے پر اسرائیلی قابض افواج کے حملے اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان سے اسرائیل کی جانب آخری مرتبہ اپریل 2022 میں راکٹ داغا گیا تھا۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں وقتاً فوقتاً سکیورٹی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس یونیفیل دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پرسکیورٹی کی ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں